رسائی کے لنکس

مصر میں کشتی الٹنے سے کم از کم 29 ہلاک


فائل فوٹو

فائل فوٹو

پناہ کی تلاش اور بہتر مستقبل کی خاطر یورپ جانے والے براعظم افریقہ اور مشرق وسطی ٰ کے اکثر تارکین وطن بحیرہ روم کے راستے کمزور کشتیوں کے ذریعے پر خطر اور جان لیوا سفر کرنے کے لیے مصر کا انتخاب کرتے ہیں۔

مصر میں بحیرہ روم کے قریب ایک کشتی الٹ جانے کے بعد امدادی ٹیمیں ڈوب جانے والوں کو تلاش کررہی ہیں ۔ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ بدھ کے روز ڈوب جانے والی کشتی پر 600 کے لگ بھگ تارکین وطن سوار تھے۔

مصر کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ 29 لوگوں کے ڈوب کر ہلاک ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، جب کہ 150 مسافروں کو بچا لیا گیا ہے۔

مقامی میڈیا کہنا ہے کہ الٹنے سے پہلے کشتی نے رشيد نامی شہر کے قریب سے اپنا سفر شروع کیا تھا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں دریائے نیل بحیرہ روم میں گرتا ہے۔ لیکن کشتی محض پانچ کلومیٹر کا فاصلہ کرنے کے بعد الٹ گئی۔

پناہ کی تلاش اور بہتر مستقبل کی خاطر یورپ جانے والے براعظم افریقہ اور مشرق وسطی ٰ کے اکثر تارکین وطن بحیرہ روم کے راستے کمزور کشتیوں کے ذریعے پر خطر اور جان لیوا سفر کرنے کے لیے مصر کا انتخاب کرتے ہیں۔

پناہ گزینوں سے متعلق بین الاقوامی تنظیم کا کہنا ہے کہ اس سال کے آغاز سے اب تک سمندر عبور کرکے یورپ جانے کی کوشش میں 3200 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG