رسائی کے لنکس

مریخ کی سطح پر اترتے وقت خلائی گاڑی کی رفتار طے شدہ منصوبے سے کہیں زیادہ تھی جس کی وجہ سے وہ ٹکرا کر تباہ ہوگئی۔

یورپ کے خلائی تحقیق کے ادارے نے کہا ہے کہ سرخ سیارے مریخ پر اتاری جانے والی خلائی گاڑی سکياپرلي ، سیارے کی سطح سے ٹکرا کے بعد تباہ ہو گئی۔

مریخ مشن کے ڈائریکٹر مائیکل ڈینس نے کہا ہے کہ میرا خیال ہے کہ ہم نے سکياپرلي کو اس مقام پر تلاش کر لیا ہے جہاں وہ اتری تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ خلائی گاڑی وہاں اتنی نرمی اور آرام سے نہیں اتری جیسا کہ ہم چاہتے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے مريخ کے سفر کے آخری مرحلے میں اس نے معمول کے مطابق کام نہیں کیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ خلائی سفر کے زیادہ تر مرحلے منصوبے کے مطابق مکمل ہوئے، لیکن خلائی گاڑی اپنے راکٹ سے کچھ پہلے الگ ہوگئی اور اس کی رفتار کو آہستہ کرنے میں مدد کے لیے جو انجن لگائے گئے تھے وہ صرف چند سیکنڈ پہلے چلے، جس کی وجہ سے وہ منصوبے کے مطابق اتر نہیں سکی۔

انہوں نے بتایا کہ بنیادی طور پر خلائی گاڑی سکياپرلي بہت زیادہ رفتار سے مريخ کی سطح پر پہنچی اور اس کی رفتار اس سے کہیں زیادہ تھی جتنی کہ ہونی چاہیے تھی۔ بد قسمتی سے اس کی رفتار کئی سو کلو میٹر فی گھنٹہ تھی، جس کی وجہ سے وہ سطح سے کرا کر تباہ ہوگئی۔

ڈینس کا کہنا تھا کہ یہ مقام اس جگہ سے بہت قریب تھا جس کی وجہ سے مريخ کے مدار میں گردش کرنے والے ناسا کا راکٹ حادثے کے مقام کی تصویر لیے میں کامیاب ہوا۔

اس سلسلے میں حاصل ہونے والی تصویر میں 15 میٹر چوڑا اور 40 میٹر لمبا سیاہ دھبہ دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ جگہ اس مقام سے تقریباً 8 کلومیٹر دور ہے جہاں منصوبے کے مطابق خلائی گاڑی کو اترنا تھا۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG