رسائی کے لنکس

مرکزی بنک کے اعداد و شمار کے مطابق (جوہری) معاہدے کے طے پانے کے بعد سے ایرانی صنعت کاروں کو افراط زر کے مقابلے میں چیزوں کی قیمت فروخت میں کمی کا سامنا کرنا پڑا ہے

ایرانی حکام نے متننہ کیا ہے کہ ایران جوہری معاہدے کے طے پا جانے کے بعد ملک میں معاشی سرگرمیاں جمود کا شکار ہو سکتی ہیں کیونکہ صارفین ملک میں بین الاقومی برانڈ کی مصنوعات کی آمد کے انتظار میں مقامی طور پر تیار ہونے والی اشیا کی خریداری روک دیں گے۔

صارفین اس حوالے سے پرجوش ہیں کہ کاروں، فریج اور ٹیلی ویژن کی خریداری میں زیادہ انتخاب اور مقابلے کی فضا کی وجہ سے مقامی صنعت کار اپنی مصنوعات اور قیمت کو بہتر کریں گے۔

جولائی میں طے پانے والے معاہدے کی وجہ سے ممکنہ طور پر 2016 میں ایران پر عائد تعزیرات اٹھالی جائیں گی جس کی وجہ سے غیر ملکیوں کے لیے ایرانی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری یا ایران کے لیے برآمدات میں اضافہ ہو گا۔

مرکزی بنک کے اعداد و شمار کے مطابق (جوہری) معاہدے کے طے پانے کے بعد سے ایرانی صنعت کاروں کو افراط زر کے مقابلے میں چیزوں کی قیمت فروخت میں کمی کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ عہدیدار اور تجزیہ کاروں نے بھی بیان کیا ہے کہ صارفین کی طرف سے بھی (مقامی مصنوعات کی) خریداری میں کمی واقع ہوئی ہے۔

لندن کی ایک مشاورتی کمپنی بیٹا میٹریکس سے منسلک ماہر اقتصادیات مہر داد حمادی کا کہنا ہے کہ ایرانی صارفین یہ جان گئے ہیں کہ مغربی کاروباری کمپنیوں کے ایران میں آنے سے انہیں جلد ہی استعمال کی متبادل اشیا مسابقتی قیمت اور ایک معقول حد تک اعلیٰ معیار اور بعد از فروخت کی خدمات کے ساتھ ان کو فراہم ہونا شروع ہو جائیں گی۔

اس مقابلے کی وجہ سے آنے والے وقت میں ایرانی معیشت کے لیے یہ امر سود مند ہوگا اور صارفین کی طرف سے غیر ملکی مصنوعات اور قیمتوں کی کمی کی توقع کے پیش نظر یہ مقامی صنعت کاروں کے لیے بھی ایک چیلنج ہو گا۔

اس سے قبل سرکاری نیوز ایجنسی بھی ایران کے نائب صدر اسحاق جہانگیری کے حوالے سے یہ بتا چکی ہے کہ "بدقسمتی سے کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جوہری معاہدے کے بعد قیمتوں میں فوری کمی ہو گی اور اس کی وجہ سے مارکیٹ کو کساد بازاری کا سامنا ہے"۔

ایک طرف ایرانی صارفین کا خیال ہے کہ ایک آزاد تجارتی مارکیٹ کی وجہ سے انہیں اشیا کے خریداری میں وسیع انتخاب کا موقع مل سکتا ہے جبکہ زیادہ تر پالیسی ساز مقامی صنعت اور اقتصادی ترقی کو تحفظ فراہم کرنا چاہتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG