رسائی کے لنکس

کراچی: طالبہ کو ہراساں کرنے پر اسکول ٹیچر کی گرفتاری، ریمانڈ


فائل

فائل

پولیس کے مطابق، ’ملزم پر دفعہ 354 کے تحت عفت پر ہاتھ ڈالنے اور عزت پر حرف آنے کے خدشے پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے‘

کراچی کے ایک نجی اسکول کی طالبہ کو ہراساں کرنے کے خلاف پولیس نے استاد کو گرفتار کرکے ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، کراچی کے علاقے گلشن اقبال ٹاؤن کے ایک نجی اسکول کے استاد پر طالبہ اور اس کے والدین کی جانب سے الزام عائد کیے جانے پر پولیس کی جانب سے گرفتاری عمل میں لائی گئی۔

پولیس کے مطابق، مبینہ طور پر پرویز نامی اسکول ٹیچر نویں جماعت کی طالبہ کو دوستی پر اکساتا اور نازیبا الفاظ استعمال کرکے ہراساں کرتا تھا، جبکہ کلاس روم میں درس و تدریس کے دوران نویں جماعت کی طالبہ کی موبائل فون سے ویڈیوز اور تصاویر بنا کر، انھیں انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کرنے کی دھمکی دیکر بلیک میل کرتا رہا ہے۔ اس پر والدین کی جانب سے اسکول انتظامیہ کی طرف سے استاد کے خلاف کاروائی نا ہونے پر احتجاج کیا اور پولیس میں شکایت درج کرائی جس پر استاد کو گرفتار کرلیا گیا‘۔

گلشن اقبال ٹاؤن پولیس تھانے کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر، ظفر اقبال نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ’والدین کا الزام ہے اور بچی کی جانب سے تحریری طور پر شکایت درج کرائی گئی ہے کہ ان کے اسکول کا ایک استاد موبائل فون سے ہماری ویڈیو بناتے ہیں کبھی سر پر ہمارے دوپٹہ ہوتا ہے کبھی ہم کسی انداز میں کہیں بیٹھے ہوں، ٹیچر اپنے موبائل سے ویڈیو اور تصاویر بناتے ہیں؛ اور پھر دوستی کرنے کا کہتے ہیں‘۔

ایس ایچ او کے بقول، ’پرویز نامی اسکول ٹیچر معافی مانگ رہا ہے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ قصوروار ہے، غلطی کی معافی مانگ رہا ہے‘۔

پولیس اہل کار نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’نجی اسکول کی نویں جماعت کی 17 سالہ طالبہ نے اس استاد کے خلاف شکایت کی ہے، ایس ایچ او کے مطابق، ’استاد ویڈیو بنا کر دوستی کے لیے کہتا، نازیبا حرکات پر اکسا کر کہتا کہ اگر دوستی نہیں کی تو ویڈیو انٹرنیٹ پر ڈال دوں گا‘۔

پولیس کے مطابق ’ملزم استاد پر دفعہ 354 کے تحت عفت پر ہاتھ ڈالنے اور عزت کی تذلیل پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے‘۔

اُنھوں نے مزید بتایا کہ ’یہ شکایت سامنے آنے پر اور والدین کے احتجاج پر استاد ہوشیار ہوگیا اور اسکے موبائل فون سے تمام تصاویر اور ویڈیوز کو ڈیلیٹ کردیا ہے‘۔

اہل کار کے مطابق، ’طالبہ کے والدین انتہائی ذہنی کرب میں مبتلا تھے۔ یہ سلسلہ کافی عرصے سے کلاس روم میں جاری تھا، جبکہ والدین نے اس وجہ سے شکایت نہیں کی کہ ہماری جوان بچیاں ہیں۔ اُنھوں نے کئی بار اسکول پرنسپل کو شکایت بھی کی، مگر اس معاملے پر عدم توجہی رہی۔ معاملہ جب حد سے بڑھ گیا، تو انھوں نے اسکول انتظامیہ کیخلاف احتجاج کیا اور پولیس کو شکایت درج کروائی‘۔

واضح رہے کہ نجی اسکول کی پرنسپل اور انتظامیہ اس حوالے سے میڈیا نمائندوں سے بات کرنے سے گریز کر رہی ہے، جس کے باعث اُن کی جانب سے کسی قسم کا کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔

XS
SM
MD
LG