رسائی کے لنکس

کراچی: برصغیر دور کے فرنیچر میں شہریوں کی دلچسپی


سونیا رحمان کہتی ہیں کہ، ’یہ نمائش ان کی کئی سالوں کی کوششوں کا نتیجہ ہے اور پاکستان میں شاید اس سے پہلے کسی نے اس طرز کی نمائش کے انعقاد کے بارے میں سوچا نہیں ہوگا۔‘

’اولڈ از گولڈ‘ کا محاورہ تو آپ نے سنا ہی ہوگا اسی لحاظ سے کوئی بھی چیز جتنی پرانی ہو اور اپنے اصل حالت میں رہے وہ نایاب اور ’اینٹیک‘ کہلاتی ہے۔

کراچی شہر میں بھی ایسے ہی اینٹیک اور قدیم آرٹ کرافٹ فرنیچر کی نمائش کا اہتمام کیا گیا جسمیں مغلیہ دور اور برطانوی راج کی عکاسی کرتے مختلف نقش و نگار اور دیدہ زیب ڈیزائن سے مزین لکڑی کی اشیا رکھی گئی ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ اس نمائش کا اہتمام کسی سرکاری یا نجی ادارے کی جانب سے نہیں بلکہ ٹی وی کی معروف اداکارہ اور میزبان سونیا رحمان نے کیا ہے۔

وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں سونیا رحمان کہتی ہیں کہ، ’مجھے بچپن سے ہی اینٹیک اور پرانی اشیاء جمع کرنے کا شوق تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس شوق کو فروغ ملا اور کئی لوگوں سے روابط کئے اور جس کے پاس اینٹیک اشیاء ملیں۔ میں یہ چیزیں خرید کر جمع کرتی رہی۔‘

سونیا رحمان کہتی ہیں کہ یہ نمائش ان کی کئی سالوں کی کوششوں کا نتیجہ ہے شاید اس سے پہلے کسی نے اس طرز کی نمائش منعقد کرنے کے بارے میں نہیں سوچا ہوگا۔

شہریوں کی دلچسپی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ عوام اینٹیک اشیا میں اتنی دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق کئی شہریوں نے ان چیزوں کو خریدنے کی پیشکش بھی کی ہے۔

جبکہ قدیم دور کے جانوروں کی کھال سے بنی کرسیاں، صوفوں سمیت لکڑی کے باکس، صوفے کرسیاں سنگھار میز، لکڑی کا جھولا، مختلف سائز کی میزیں کیبنٹ سمیت 150 کے لگ بھگ اشیا ہیں جنکی قیمت 50 ہزار سے 4 لاکھ روپے تک ہے۔

قدیم زمانے کے انداز، ماڈل اور نقش و نگار سے بنے لکڑی کے فرنیچر آرٹ کی نمائش میں شہریوں کی بڑی تعداد دلچسپی لے رہی ہے۔

نمائش میں شریک خاتون کا کہنا تھا کہ نمائش میں بہت خوبورت ڈیزائن کا فرنیچر رکھا گیا ہے جنہیں دیکھ کر پرانے دورکی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ شہر میں ایسی سرگرمیوں کا اہتمام ہونا چاہیئے تاکہ نئی نسل کو اندازہ ہو سکے کہ پہلے وقتوں میں لوگوں کا انداز ِ زندگی کیا تھا۔
XS
SM
MD
LG