رسائی کے لنکس

کشمیر میں سرحد آرپار سفر کے لیے بس سروس کے 10 سال مکمل

  • روشن مغل

اپریل 2005ء میں پاکستانی کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد سے براستہ چکوٹھی بھارتی کمشیر کے علاقے سری نگر کے درمیان دوطرفہ بس سروس کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد کشمیر کے منقسم خاندانوں کو ملاقات کا موقع فراہم کرنا تھا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازع علاقے کشمیر کے دو منقسم حصوں کے مابین چلنے والی بس سروس نے مشکلات اور کئی بار کے تعطل کے باوجود رواں ماہ اپنے دس سال مکمل کر لیے ہیں۔

اپریل 2005ء میں پاکستانی کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد سے براستہ چکوٹھی بھارتی کمشیر کے علاقے سری نگر کے درمیان دوطرفہ بس سروس کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد کشمیر کے منقسم خاندانوں کو ملاقات کا موقع فراہم کرنا تھا۔

چند ماہ بعد ایک اور بس سروس پاکستانی کمشیر کے راولاکوٹ سے بھارتی کشمیر میں پونچھ کے درمیان شروع کی گئی۔

شروع میں یہ بس سروس مہینے میں دو بار چلتی تھی جسے بعد میں بڑھا کر ہفتہ وار کر دیا گیا۔

کشمیر کو منقسم کرنے والی حدبندی "لائن آف کنٹرول" کے آرپار تجارت اور سفر کے ادارے کی طرف سے مہیا کردہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک اس بس سروس کے ذریعے پاکستانی کشمیر سے 11 ہزار سے زائد اور بھارتی کشمیر سے آٹھ ہزار سے زائد افراد آر پار کا سفر کر چکے ہیں۔

بین الکشمیر بس سروس دونوں اطراف مسافروں کو جنگ بندی لائن کے قریب قائم تجارتی و سفری مراکز تک پہنچاتی ہے جہاں سے وہ پیدل لائن آف کنٹرول عبور کرتے ہیں۔

اس سروس کے لیے سرکای اجازت نامے کا حصول اپنی جگہ ایک مشکل مرحلہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ لاکھوں منقسم خاندانوں میں سے ان دس سالوں کے دوران صرف 19 ہزار لوگ ہی اس سفری سہولت سے فائدہ اٹھا سکے ہیں۔

کنٹرول لائن کے آرپار سفر اور تجارت کے نگران اداے کے اعلیٰ عہدیدار امتیاز وائیں نے وائس آف امریکہ سے گفگتو میں بتایا کہ سفر کے خواہشمند افراد کی جانچ پڑتال کے بعد ہی ان کی درخواست منظور یا نا منظور ہوتی ہے۔

"جن کی سکیورٹی کلیئرنس نہیں ہے وہ تو نہیں جا سکتے، باقی جتنی درخواستیں آتی رہتی ہیں ان پر اس حساب سے عمل کیا جاتا ہے۔ ان کی سلامتی کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے کہ یہ جب وہاں جائیں تو انھیں کوئی مسئلہ نہ ہو۔"

کنٹرول لائن پر دو مقامات سے بس سروس کے علاوہ وادی نیلم اور کوٹلی میں بھی کنٹرول لائن پر منقسم خاندانوں کی آمدو رفت کے لیے کراسنگ پوائنس کھولے گئے ہیں جہاں سے ہفتہ وار دونوں اطراف آمدورفت ہوتی ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ان پوائنٹس سے بھی اب تک دس ہزار افراد آر پار سفر کر چکے ہیں۔​

XS
SM
MD
LG