رسائی کے لنکس

شمالی کورین رہنما کا چین کا دورہ نہ کرنے کا فیصلہ


کم جونگ ان (فائل فوٹو)

کم جونگ ان (فائل فوٹو)

سیول میں شمالی کوریا کے امور کے ایک مبصر جیون ہیون جون نے کہا کہ کم کا اس تقریب میں شرکت نہ کرنا چین کی شمالی کوریا کے ساتھ بڑھتی ہوئی مایوسی کا اظہار ہے۔

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کی طرف سے چین میں تین ستمبر کو دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کی سترویں سالگرہ کے موقع پر ہونے والی فوجی تقریب میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے کو مبصرین چین اور شمالی کوریا کے درمیان تعلقات مین تناؤ کا مظہر قرار دے رہے ہیں۔

چین کے نائب وزیر خارجہ شانگ منگ نے اس ہفتے نامہ نگاروں کو بتایا تھا کہ پیانگ یانگ شمالی کوریا کی سنٹرل کمیٹی آف ورکر کے سیکرٹری چو ریانگ ہی کو بیجنگ میں تین ستمبر کو ہونی والے پریڈ میں شرکت کے لئے بھیجے گا۔ روس کے صدر ولادیمر پوٹن، جنوبی کوریا کی صدر پارک گیون ہئی سمیت لگ بھگ 30 عالمی رہنماؤں کی اس تقریب میں شرکت متوقع ہے۔

سیول میں شمالی کوریا کے امور کے ایک مبصر جیون ہیون جون نے کہا کہ کم کا اس تقریب میں شرکت نہ کرنا چین کی شمالی کوریا کے ساتھ بڑھتی ہوئی مایوسی کا اظہار ہے۔

"کم اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے دوران چین سے خصوصی سلوک چاہتے تھے اور (کم) نے محسوس کیا ہو گا کہ چین اس بات کو پورا نہیں کر سکتا ہے"۔ جیون نے کہا کہ کم کے 2011 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد دونوں اتحادیوں کے (رہنماؤں کے ) درمیان ذاتی تعلقات تناؤ کا شکار ہو گئے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ چینی صدر شی جنپنگ کے کم کے ساتھ (تعلقات میں) تناؤ ہے۔

کم کی طرف سے اس یادگاری تقریب میں شرکت کا امکان اس وقت پہلی بار سامنے آیا جب انہو نے مئی میں روس میں ہونے والے سالگرہ کی تقریب میں شرکت کرنے کے لیے طے شدہ دورہ منسوخ کر دیا تھا۔

حال ہی میں کم کی طرف سے کوریائی جنگ میں شمالی کوریا کی طرف سے حصہ لینے والے چینی فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کئے جانے کو بظاہر شمالی کوریا کے چین کی طرف مصالحتی اقدام کے طور پر دیکھا جارہا تھا۔ کچھ مبصرین نے قیاس کیا تھا کہ چین اور شمالی کوریا آئندہ ہفتے ہونے والی تقریب کے موقع کو دو طرفہ تعلقات کو ٹھیک کرنے کے لئے استعمال کر سکتے تھے۔

تاہم اس کی بجائے چین نے جنوبی کوریا کی صدر پارک کو اس پریڈ میں شرکت کرنے کی دعوت دی جہاں بیجنگ اپنی فوجی طاقت کے مظاہرے کے دوران اپنے نئے بنائے گئے جدید ہتھیاروں کی نمائش بھی کرے گا۔

جب گزشتہ ہفتے صدر پارک کے تین روزہ دورے کا اعلان ہوا جس کے دوران ان کی چینی صدر کے ساتھ ملاقات بھی شامل ہے، تو یہ واضح نہیں تھا کہ آیا وہ چینی فوجی پریڈ میں شرکت کریں گی یا نہیں جس میں مغربی ممالک کے کئی رہنما شرکت نہیں کر رہے ہیں۔

بدھ کو جنوبی کوریا کے صدر کے دفتر کی طرف سے بتایا گیا تھا کہ وہ چینی پریڈ میں شرکت کریں گی۔ وہ اس تقریب میں شرکت کرنے والی جنوبی کوریا کی پہلی صدر ہو ں گی۔

صدر پارک کے ترجمان من کیانگ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ جنوبی کوریا چین کے ساتھ اپنے تعلقات کی (اہمیت کو) سمجھتا ہے اور یہ فیصلہ اس امید کے ساتھ کیا گیا ہے کہ چین امن اور جزیرہ نما کوریا کے متحدہ ہونے میں اپنا کردار اداے کرے گا۔

شن سان جن، جو جنوبی کوریا کی کوانگ ون کی یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں اور وہ چین اور دونون کوریا ئی ممالک کے درمیان تعلقات پر نطر رکھتے ہیں، کا کہنا ہےکہ صدر پارک نے ممکنہ طور پر شمالی کوریا کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لیے مممکنہ طور چین کی ضرورت کو محسوس کیا ہو۔

جبکہ کچھ دوسرے مبصرین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے عہدیدار چو کا اس تقریب میں شرکت کرنا کم جونگ اُن کی طرف سے چین کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی ایک کوشش ہو سکتی ہے۔ چو اس سے پہلے 2013 میں چین کا دورہ کر چکے ہیں جس دوران انہوں نے صدر شی سے ملاقات کی تھی۔

چین اور شمالی کوریا کے درمیان تعلقات اس وقت سرد مہری کا شکار ہوئے جب پیانگ یانگ نے بیجنگ کے اعتراضات کے باوجود 2013 کے اوائل میں تیسرا جوہری تجربہ کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG