رسائی کے لنکس

نیٹو بالٹک ریاستوں اور پولینڈ میں فوج تعینات کرے گا


نیٹو سیکرٹری جنرل جین اسٹولٹنبرگ (فائل فوٹو)

نیٹو سیکرٹری جنرل جین اسٹولٹنبرگ (فائل فوٹو)

اس منصوبے کی باضابطہ منظوری برسلز میں منگل کو ہونے والے نیٹو ممالک کے وزرائے دفاع کے اجلاس میں دی جائے گی۔

معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم' نیٹو' کے سیکرٹری جنرل جین اسٹلوٹنبرگ نے پیر کو کہا کہ نیٹو پولینڈ، لیتھیونیا، ایسٹونیا اور لٹویا میں چار بین الاقوامی بٹالین تعینات کرنے کے بارے میں اتفاق کر لے گی۔

اس منصوبے کی باضابطہ منظوری برسلز میں منگل کو ہونے والے نیٹو ممالک کے وزرائے دفاع کے اجلاس میں دی جائے گی۔ اجلاس سے قبل اسٹولٹنبرگ نے کہا کہ " یہ ایک واضح پیغام ہو گا کہ نیٹو اپنے کسی بھی اتحادی کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہے"۔

یہ اجلاس جولائی میں وارسا میں ہونے والی سربراہی کانفرنس سے پہلے منعقد ہو رہا ہے۔

بالٹک ریاستوں کے کچھ رہنماؤں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ نیٹو جو فورس تعنیات کرنے کا پروگرام بنارہا ہے وہ روس کی کسی حملے کو روکنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ لتھونیا کے وزیر دفاع جیوزس اولیکاس نے بالٹک میں روسی حملے کے امکان کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہم اسے خارج از امکان قرار نہیں دے سکتے۔۔۔ وہ سرحد پر مشق کر سکتے ہیں اور اس کے گھنٹوں کے اندر ہی (وہ) اسے حملے میں تبدیل کر سکتے ہیں"۔

یورپ میں امریکی فوج کے کمانڈر بن ہاجز نے حال ہی لتھونیا کے دارالحکومت کا دورہ کیا جس دوران انہوں ںے بھی نیٹو کی دفاعی صلاحیت سے متعلق اسی طرح کے تحفظات کا اظہار کیا جس طرح بالٹک ریاستیں کر چکی ہے۔

"یہ ایک عبوری (اقدام) ہے" ۔ انہوں نے مزید کہا کہ "میں امید کرتا ہوں کہ اس میں عملی جنگ کرنے کی صلاحیت شامل ہو گی۔ ان ملکوں میں صرف جنگی سازوسامان رکھنے سے ۔۔ (حملے) کو روکا نہیں جا سکتا ہے"۔

ماسکو کی طرف سے کوئی فوری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

گزشتہ سال دسمبر میں روس کے صدر ولادیمر پوٹن نے ملکی سلامتی کی ایک نئی حکمت عملی کی منظوری دی تھی جس میں واضح طور پر نیٹو کو ایک خطرہ قرار دیا گیا تھا۔

مبصرین کا ماننا ہے ماسکو کی طرف سے کرائیما پر قبضے اور مشرقی یوکرین میں علیحدگی پسندوں کی حمایت کے بعد یہ حکمت عملی روس اور مغرب کے درمیان تعلقات میں بگاڑ کی عکاسی کرتی ہے۔

XS
SM
MD
LG