رسائی کے لنکس

پانچ بچوں کی ہلاکت کی تحقیقات کی جا رہی ہیں: بلوچستان حکومت

  • ستارکاکڑ

فائل فوٹو

فائل فوٹو

ضلع قلعہ سیف اللہ کے محکمہ صحت کے حکام کے مطابق پورے ضلع میں بچوں کو خسرے سے بچاﺅ کے ٹیکے لگائے جارہے ہیں اور گزشتہ چند دنوں سے جاری مہم کے دوان ضلع کے چھ ہزار سے زائد بچوں کو یہ ویکسین لگائی جا چکی ہے۔

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں حکام کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر خسرے سے بچاؤ کی ویکسین کے اثرات سے ہلاک ہونے والے بچوں کی موت کی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

وزیراعظم نواز شریف نے بھی بچوں کی اموات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا اور متعلقہ حکام سے کہا کہ وہ جلد از جلد اس بارے میں رپورٹ پیش کریں۔

واضح رہے کہ مبینہ طور پر خسرے سے بچاؤ کی ویکسین کے بعد پانچ بچے موت کے منہ میں چلے گئے جب کہ کوئٹہ کے ایک اسپتال میں زیر علاج دو بچوں کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

ضلع قلعہ سیف اللہ کے محکمہ صحت کے حکام کے مطابق پورے ضلع میں بچوں کو خسرے سے بچاﺅ کے ٹیکے لگائے جارہے ہیں اور گزشتہ چند دنوں سے جاری مہم کے دوان ضلع کے چھ ہزار سے زائد بچوں کو یہ ویکسین لگائی جا چکی ہے۔

جمعرات کو ضلع کے دوردراز علاقوں سے سات بچوں کو سول اسپتال قلعہ سیف اللہ علاج کے لیے لایا گیا تھا جہاں ان بچوں کو بھی خسرے سے بچاؤ کے ٹیکے لگائے گئے لیکن حکام کے بقول بیماری اور خورا ک کی کمی کے باعث ٹیکے کے ری ایکشن سے تمام بچوں کی حالت نازک ہو گئی۔

اُن بچوں کو کوئٹہ منتقل کرنے کی کو شش کی جارہی تھی کہ تین بچوں نے راستے میں دم توڑ دیا جبکہ چار بچوں کو اسپتال پہنیچایا گیا جن میں سے مزید دو بچوں نے رات کو دم توڑ دیا۔

محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ بچوں کی یہ ہلاکتیں خسرے کی ویکسین سے نہیں ہوئیں اور اصل وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

صوبائی سیکرٹری صحت نورالحق نے وائس آف امریکہ کو بتایا۔

"ویکسین کی ایک وائل (شیشی) سے چار پانچ گھروں کے بچوں کو تو ویکسین لگائی گئی ہوگی لیکن ایک ہی گھر کے بچے متاثر ہوئے تو یہ ویکسین کی وجہ سے سے نہیں ہوئے۔ اس کی تحقیقات کر رہے ہیں اور متاثرہ بچوں کے خون کے نمونے بھی تجزیے کےلیے بھیج دیے گئے ہیں۔"

وزیراعظم نواز شریف نے بھی بچوں کی ان ہلاکتوں کا نوٹس لیتے ہوئے اس کی تحقیقات کرنے کے لیے ہدایت جاری کر دی ہیں۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ بلوچستان کے تقریباً 17 اضلاع میں خسرے کی وبا پھیل چکی تھی اور پانچ اضلاع لسبیلہ، خضدار، قلات، قلعہ سیف اللہ اور ژوب سمیت پورے صوبے میں خسرے کے تقر یباً 1350 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

بلوچستان کی صوبائی حکومت نے دس اپریل سے خسرہ کے خاتمے کے لیے مہم شروع کی تھی جس میں نو ماہ سے لے کر دس سال تک کی عمر کے بچوں کو خسرے سے بچاؤ کی ویکسین دینے کا پروگرام بنایا گیا۔

اس دوران تقریباً 35 لاکھ سے زائد بچوں کو یہ ویکسین دینے کا ہدف مقرر کیا گیا جن میں سے اب تک چار لاکھ سے زائد بچوں کو خسرے سے بچاﺅ کے ٹیکے لگائے جا چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG