رسائی کے لنکس

نگہت داد کا تعلق پاکستان کے شہر جھنگ سے ہے۔ اُن کے والدین پڑھے لکھے نہیں تھے۔ مگر انھوں نے اپنی بیٹی کو اس قابل بنا دیا کہ وہ بین الاقوامی سطح پر 'نیکسٹ جنریشن لیڈر' قرا دی گئی ہیں۔ نگہت ملالہ یوسفزئی کو بھی ڈیجیٹل حقوق کی ٹریننگ دینے کا اعزاز حاصل ہے

حال ہی میں، امریکی جریدے، 'ٹائم میگزین‘ نے 'نیکسٹ جنریشن لیڈر' کی ایک فہرست جاری کی ہے، جس میں پاکستانی خاتون نگہت داد کا نام بھی شامل ہے۔

نگہت داد پاکستان میں 'ڈیجیٹل رائٹس' کیلئے نمایاں کام کر رہی ہیں۔ ان کی انھی کاوشوں پر، ٹائم میگزین کی جانب سے نگہت کو 'اگلی نسل کے لیڈر‘، قرار دیا گیا ہے۔

جمعرات کو ’وائس آف امریکہ‘ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے، اُن کا کہنا تھا کہ اس پذیرائی پر وہ جریدے کی تہ دل سے شکرگزار ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اس بات کا تسلیم کیا جانا کہ پاکستان میں بھی باصلاحیت لوگ موجود ہیں، اور بین الاقوامی سطح پر اس پی پذیرائی خوشی کا باعث ہے۔

نگہت داد کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اس اعزاز کے بارے میں انتہائی خوش ہیں کہ وہ ایک پاکستانی شہری کے طور پر بین الاقوامی سطح پر اپنے کام کو پیش کریں گی۔

اس اعزاز کے بعد، اُنھوں نے کہا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ ان کی ذمہ داریاں اور بڑھ گئی ہیں۔ ’ناصرف یہ، بلکہ ان کا یہ اعزاز دیگر پاکستانی خواتین کیلئے بھی ایک قابل فخر بات ہے، جس میں ایک پاکستانی خاتون کو ایک بین الاقوامی پلیٹ فارم کیلئے چنا گیا ہے‘۔

نگہت ان دنوں 'ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن' نامی ایک نجی ادارہ چلا رہی ہیں، جو 2012ء میں قائم کیا گیا تھا، جس کا مقصد پاکستان میں ڈیجیٹل حقوق سے آگہی فراہم کرنا اور ان سے مستفید ہونے کے محفوظ طریقے سکھانا ہے۔

پاکستان میں ڈیجیٹل حقوق کیلئے سرگرم کارکن نے مزید بتایا کہ جب سنہ 2012 میں اُنھوں نے اس ادارے کا آغاز کیا، تو اُن کا مذاق اڑایا جاتا تھا کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں عام انسانی حقوق موجود نہیں ہیں اور عوام کو آئینی حقوق حاصل نہیں، ایسے میں کون ڈیجیٹل حقوق کیسے دلوا سکتا ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ اُنھوں نے اس کام کو ’ایک بہت بڑا چیلنج سمجھا‘ اور سنہ 2012 ڈیجیٹل حقوق کی فراہمی و آگاہی کیلئے کام کر رہی ہیں۔ مگر، اب ایسا وقت ہے جب سائبر کرائم بل اور دیگر قوانین بننے والے ہیں، ڈیجیٹل رائٹس کیلئے کئی لوگ آگے آرہے ہیں؛ اور اس شعبے کو مزید تقویت مل رہی ہے۔۔۔بلکہ، اس میں ایک مثبت تبدیلی آ رہی ہے‘۔

ملالہ یوسفزئی کو ٹیکنالوجی ٹریننگ دینے کا اعزاز

نگہت داد کو پاکستانی نوجوان نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کو محفوظ انٹرنیٹ کے طریقے بھی سکھائے ہیں۔ اس حوالے سے انھوں نے بتایا کہ ملالہ نے 2011ء میں پشاور میں ایک سائبر کرائم ورکشاپ میں حصہ لیا تھا، جہاں وہ عام لڑکیوں کی طرح انٹرنیٹ کے محفوظ طریقہ کار سیکھنا چاہتی تھیں۔

بقول نگہت داد کے ملالہ نے انھیں انٹرنیٹ سے متعلق ایک مسئلہ بھی بتایا۔

انھوں نے اِس واقعے کے بارے میں بتایا کہ ’ملالہ نےاس وقت ورکشاپ میں اپنے ساتھ بیتا ہوا ایک واقعہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ ’میرے نام سے فیس بک کی آئی ڈیز اور فیش بک پیج بنایا گیا ہے‘۔

nighat dad with malala yousafzai

nighat dad with malala yousafzai

​ملالہ نے کہا تھا کہ اس نقلی پیج پر نفرت انگیز عبارات تحریر کی جا رہی ہیں۔ ملالہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کو نہیں معلوم یہ پیج کس کا ہے اور کس نے بنایا ہے؛ اور یہ کہ ان کو اس بارے میں انکی ایک سہیلی نے بتایا تھا۔

نگہت نے مزید بتایا کہ ’ملالہ اپنے تعلیم کے مشن کیلئے اپنا ایک ذاتی پیج بنانا چاہتی ہیں کہ کس طریقے سے وہ اسے محفوظ بناسکتی ہیں‘۔ بقول نگہت، اِس ورکشاپ کے ذریعے انھون نے ٹیکنالوجی سے متعلق بہت سی باتیں سیکھیں۔

نگہت داد کے مطابق، انھیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ ملالہ کی ورک شاپ ٹرینیرز میں شمار ہوتی ہیں۔

نگہت کے والدین کی کیرئیر مین سپورٹ

نگہت داد کا تعلق پاکستان کے شہر جھنگ کے ایک گاؤں سے ہے۔ پنجاب یونویرسٹی لا سے وکالت کی تعلیم حاصل کی اس کے بعد امریکہ کی انٹرنیشنل ڈیجیٹل لیڈرشپ کے مختلف کورسز کیے۔

انھوں نے بتایا کہ وہ ایک ’سنگل مدر‘ ہیں، ان کا ایک آٹھ سال کا بیٹا ہے۔ شوہر سے علیحدگی کے بعد، انھوں نے اپنے کام کا آغاز کیا نگہت کئی برسوں سے ٹیکنالوجی انٹرنیٹ سے متعلق مختلف پروگرامز اور ٹریننگ کروا چکی ہیں، جس سے پاکستان کی درجنوں خواتین اور لڑکیاں مستفید ہوچکی ہیں'۔

انھوں نے بتایا کہ ایک سنگل مدر ہونےکے ناطے اُنھوں نے معاشرے میں بہت سی چیزوں کا چیلنجگ رول نبھایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے والدین کی جانب سے ہر سطح پر سپورٹ حاصل رہی ہے۔ والدین بڑھے لکھے نہیں تھے۔ مگر انھوں نے اپنی بیٹی کو اعلیٰ تعلیم دلوائی اور وہ اس مقام پر پہنچ چکی ہیں۔

ٹائم جریدے کی جانب سے جاری کی گئی فہرست میں، نگہست داد دنیا بھر کے ان چھ نوجوانوں کی فہرست میں شامل ہیں جو اپنے ملک میں مختلف شعبوں میں اپنے آپ کو منوا رہے ہیں۔ پاکستان سمیت، اِن میں ترکی، چین، فرانس اور کینیا سے نوجوان چنے گئے ہیں، جنھیں بین الاقوامی سطح پر ’نیکسٹ جنریشن لیڈر' قرار دیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG