رسائی کے لنکس

انہوں نے یہ بات پاکستان کا دورہ کرنے والی عالمی مالیاتی ادارے 'آئی ایم ایف' کی سربراہ کرسٹین لغراد سے ملاقات کے موقع پر کہی۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ان کا ملک افغانستان میں امن و استحکام کے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے میں مخلص ہے۔

انہوں نے یہ بات پاکستان کا دورہ کرنے والی عالمی مالیاتی ادارے 'آئی ایم ایف' کی سربراہ کرسٹین لغراد سے ملاقات کے موقع پر کہی۔

پاکستان کے لیے ’آئی ایم ایف‘ کے حال ہی میں مکمل ہونے والے پروگرام کے بعد کرسٹین لغراد کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ ہے۔

وزیراعظم کے دفتر سے جاری ایک بیان کے مطابق نواز شریف نے کرسٹین سے گفتگو میں کہا کہ افغانستان میں امن و استحکام پاکستان کے بھی مفاد میں ہے اور اس سے ںاصرف پاکستان بلکہ خطے میں بھی امن ممکن ہے۔

نوازشریف نے ’آئی ایم ایف‘ کی سربراہ کو بتایا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ سرحد کی نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے بھی مستعدی سے کام کر رہا ہے۔

اس موقع پر وزیراعظم نے پاکستان کی اقتصادی بحالی اور معیشت کے استحکام میں ’آئی ایم ایف‘ کے معاونت کو سراہتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے اصلاحات کے جامع پروگرام پر عمل پیرا ہو کر اقتصادی استحکام کو حاصل کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی، معیشت، توانائی کی کمیجیسے بڑے چیلنجوں سے کامیابی سے نمٹ رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو ناصرف جانی نقصان اُٹھانا پڑا بلکہ اس دوران پاکستانی معیشت کو ایک سو ارب ڈالر کو نقصان پہنچا۔

نواز شریف نے کہا کہ اگرچہ ملک میں دہشت گردی پر قابو پا لیا گیا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ اب بھی دو لاکھ فوجی ملک کے شمال مغربی علاقوں میں تعینات ہیں۔

اُنھوں نے مسلح افواج دہشت گردوں کے بچے کچھے ٹھکانوں کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے۔

پاکستان کو گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا سامنا ہے تاہم گزشتہ چند سال کے دوران پاکستانی فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کی وجہ سے ملک میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں خاطر خواہ کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

تاہم ابھی ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں عام شہریوں اور قانوں نافذ اہلکاروں کو نشانے بنانے کے اکا دکا واقعات پیش آئے رہتے ہیں جنہیں حکام دہشت گردوں کے خلاف جاری کارروائیوں کا ردعمل قرار دیتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG