رسائی کے لنکس

پاکستان کے جوہری پروگرام سے متعلق ادارے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول اتھارٹی کے مشیر ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل خالد قدوائی نے ان خبروں اور تجزیوں کو مسترد کیا ہے جن میں کہا گیا تھا پاکستان تیزی سے اپنے جوہری پروگرام کو آگے بڑھا رہا ہے اور بہت جلد یہ دنیا کی تیسری بڑی جوہری قوت بن سکتا ہے۔

پاکستان کے جوہری پروگرام سے متعلق ادارے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول اتھارٹی کے مشیر ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل خالد قدوائی نے ان خبروں اور تجزیوں کو مسترد کیا ہے جن میں کہا گیا تھا پاکستان تیزی سے اپنے جوہری پروگرام کو آگے بڑھا رہا ہے اور بہت جلد یہ دنیا کی تیسری بڑی جوہری قوت بن سکتا ہے۔

انہوں نے یہ بات رواں ہفتے اسلام آباد میں جوہری سکیورٹی سے متعلق منعقدہ ایک سیمینار کے دوران کہی۔ ان کے بقول یہ رپورٹس منفی اور حقائق کے برعکس ہیں۔

"میرے خیال میں ان کے سیاسی مقاصد ہیں کیونکہ پاکستان میں ہونے والی پیش رفت بہت ہی معتدل سطح کی ہے اور یہ کم سے کم دفاعی ضرورت کے مطابق ہے اور یہ عمل کے ردعمل میں ہے جو بھارت میں ہوتا ہے۔ اس لیے پاکستان کا جوہری پروگرام تیزی سے ترقی کرنے والا پروگرام نہیں ہے"۔

تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان کا جوہری پروگرام دفاعی نوعیت کا ہے اور " ہم ٹیکٹیکل جوہری ہھتیار بنانے پر معذرت خواہ نہیں ہیں اور یہ ہمارے پاس رہیں گے"۔

پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے گزشتہ سال چھوٹے جوہری ہتھیار بنانے کا انکشاف کیا تھا۔

خالد قدوائی نے کہا کہ وہ ادارے جو ان ہتھیاروں کی منصوبہ بندی، ان کی حفاظت اور ان کی آپریشنل تعیناتی کے ذمہ دار ہیں وہ اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ان کی تعیناتی کے وقت اور مقام میں توازن ہو اور ان کو ردعمل کے طور پر ہی استعمال کیا جائے گا اس کے ساتھ ساتھ یہ جنگ میں بہت پہلے ہی سے نا شامل ہو جائیں اور یہ محفوظ رہیں۔

خالد قدائی نے کہا کہ ٹیکٹیکل ہتھیاروں کی تیاری کا مقصد پاکستان کے ہمسایہ ملک کی بڑی روائتی فوج کو پاکستان کے خلاف اس محدود جنگ سے دور رکھنا ہے جس کے مقاصد سیاسی ہو سکتے ہیں۔

"اس سے ہم جوہری نظام میں ٹیکٹیکل سطح پر فرق کو دور کرنے کی کوشش پر مجبور ہوئے پاکستان نا تو اپنے جوہری پروگرام کو روکے گا اور نا ہی اسے ختم کرے گا۔ اس حوالے سے کی جانے والے تمام تر کوششوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا"۔

پاکستانی عہدیدار کی طرف سے یہ بیان آئندہ ہفتے واشنگٹن میں جوہری سلامتی سے متعلق ہونے والی سربراہی کانفرنس سے پہلے سامنے آیا ہے جس میں صدر براک اوباما اور دیگر عالمی رہنما جوہری ہتھیاروں کے تحفظ اور ان کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے بارے میں غور کریں گے۔ پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف بھی اس کانفرنس میں شرکت کر رہے ہیں جو اس میں اپنے ملک کا نقطہ نظر پیش کرنے کے علاوہ اس موقع پر دیگر عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔

XS
SM
MD
LG