رسائی کے لنکس

طورخم سرحد پر سکیورٹی، افغان حکومت کا تعاون اہم ہے: پاکستان


طورخم سرحد (فائل فوٹو)

طورخم سرحد (فائل فوٹو)

بدھ سے پاکستان نے طورخم سرحدی گزرگاہ کے ذریعے کسی بھی افغان شہری کو بغیر مستند سفری دستاویزات کے اپنے ہاں داخل نہ ہونے دینے کے فیصلے پر عملدرآمد شروع کر دیا تھا۔

پاکستان نے کہا ہے کہ اس نے اپنے شمال مغرب میں افغان سرحد پر طورخم کے مقام پر گزرگاہ کی سکیورٹی کو سخت کر دیا ہے جب کہ افغان حکومت کی طرف سے اس اقدام پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

جمعرات کو اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں وائس آف امریکہ کی طرف سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نفیس ذکریا نے بتایا کہ طورخم سرحد پر سکیورٹی بڑھائے جانے کا مقصد عسکریت پسندوں کی یہاں سے نقل و حرکت کو روکنا ہے جو دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔

"سرحد کی نگرانی کا موثر نظام انسداد دہشت گردی کی کوششوں کا حصہ ہے جو کہ دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔۔۔اس کے لیے افغان حکومت کا تعاون بہت اہم ہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی میں نرمی سے متعلق تاحال افغان حکومت نے کوئی تجویز یا درخواست نہیں کی ہے۔

بدھ سے پاکستان نے طورخم سرحدی گزرگاہ کے ذریعے کسی بھی افغان شہری کو بغیر مستند سفری دستاویزات کے اپنے ہاں داخل نہ ہونے دینے کے فیصلے پر عملدرآمد شروع کر دیا تھا۔

ایک اندازے کے مطابق اس سرحدی گزرگاہ کو روزانہ دس ہزار سے 20 ہزار کے لگ بھگ افراد استعمال کرتے ہیں جن میں اکثریت سفری دستاویزات کے بغیر سفر کرنے والوں کی ہوتی ہے۔

پاکستان کا موقف رہا ہے کہ اکثر عسکریت پسند عام شہریوں کے بھیس میں سرحد کے آر پار نقل و حرکت کے لیے اس گزرگاہ کو استعمال کرتے رہے ہیں۔

اسی دوران ترجمان دفتر خارجہ نفیس ذکریا نے بتایا کہ افغان حکومت پاکستان میں مقیم اپنے پناہ گزین باشندوں کی وطن واپسی کی تاریخ میں مزید توسیع کی خواہاں ہے جس پر فی الوقت غور کیا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے مطابق تقریباً 15 لاکھ افغان پناہ گزین باقاعدہ اندراج کے ساتھ پاکستان میں مقیم ہیں جبکہ حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اتنی ہی تعداد میں افغان باشندے بغیر اندراج کے ملک کے مختلف حصوں میں قیام پذیر ہیں۔

گزشتہ سال 50 ہزار سے زائد افغان پناہ گزین رضاکارانہ طور پر اپنے وطن واپس چلے گئے تھے جب کہ 2002ء سے 2015ء تک رضاکارانہ طور پر واپس جانے والوں کی تعداد 39 لاکھ کے قریب بتائی جاتی ہے۔

XS
SM
MD
LG