رسائی کے لنکس

دہشت گردی کے واقعات کے بچوں پر نفسیاتی اثرات

  • عشرت سلیم

’’کیا ہم اس بات کے لیے تیار ہیں کہ ہم اپنے نصاب میں ایک ایسا بیانیہ لکھ سکیں جو نفرت کا جواب نفرت سے نہ دے، ظلم کا جواب ظلم سے نہ دے۔۔۔ تہذیب سیاست سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے اور زیادہ اثر کرتی ہے۔‘‘

گزشتہ برس پشاور میں آرمی پبلک سکول پر ہونے والے دہشت گرد حملے کو ملکی تاریخ کا بد ترین سانحہ قرار دیا گیا۔

اس میں 120 سے زائد بچوں سمیت 150 افراد ہلاک ہوئے۔ ماہرین تعلیم و نفسیات کے مطابق جہاں اس سانحے نے سکول کے بچوں اور ان کے لواحقین کو صدمے سے دوچار کیا وہیں ملک بھر کے والدین اور بچوں پر بھی اس کا شدید نفسیاتی اثر ہوا۔

ماہر نفسیات ڈاکٹر عاصمہ ہمایوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ زیادہ تر بچے خود ہی وقت کے ساتھ صدمے سے نکل آتے ہیں مگر جن بچوں کو گھر میں مدد کی ضرورت ہو ان میں بچوں کے والدین کا آگاہ ہونا بہت ضروری ہے۔

​’’بعض والدین خود اتنے پریشان ہوتے ہیں اور بچوں کو بلاوجہ تسلیاں دیتے رہتے ہیں جس سے ان کا بچہ مکمل طور پر اپنے خدشات کا اظہار نہیں کر پاتا۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ بچوں کو اپنے روز مرہ کے معمولات میں اپنے جذبات کا اظہار کرنے دینا چاہیئے۔

’’ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں گھروں میں 24 گھنٹے ٹیلی وژن نشریات جاری رہتی ہیں جن میں سانحے کا بار بار ذکر ہو رہا ہوتا ہے۔ والدین خود لگاتار ٹی وی کے آگے بیٹھے ہوتے ہیں اور شاید کبھی کبھی اس بات کا اندازہ نہیں کر پاتے کہ ان کے آس پاس بچے بھی بہت کچھ دیکھ رہے ہیں۔ تو اس طرح کی نشریات کو دیکھنا محدود کرنا چاہیئے، خاص طور پر ایسی (ویڈیوز) جن کے بچوں اور کبھی کبھی بڑوں پر بہت گہرے نفسیاتی اثرات ہوتے ہیں۔‘‘

پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ نفسیات میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر نعمانہ امجد نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ جب دہشت گردی کا اتنا بڑا واقعہ معاشرے کے ایک بڑے حصے کو متاثر کرے تو اس سے معاشرے کی سطح پر ہی نمٹنے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہمارے میڈیا نے اس واقعے کو بار بار اس انداز میں پیش کیا جس سے بچوں اور بڑوں کے لیے وہ صدمہ دہرایا جاتا رہا، مگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے حوصلے کا درس بھی دیا جا سکتا ہے جس طرح ایک نغمے کے ذریعے دیا گیا ہے۔

’’آرمی نے بہت اچھا نغمہ بنایا ’بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے‘، اس سے بچوں میں ایک ولولہ آیا ہے۔ بچوں نے تقسیم کے وقت بھی مشکلات جھیلی تھیں، اور دیگر مسائل کے بھی ہمیشہ بچوں پر اثرات ہوتے ہیں۔ لیکن جب آپ حوصلے کا درس دیتے ہیں تو اس سے بچوں میں مثبت سمت میں سوچ اور ہمت جانے لگتی ہے کہ ٹھیک ہے کہ ہم بے بس بھی نہیں ہیں، ہم ہار ماننے والے بھی نہیں ہیں۔ ہم ہمت قائم رکھیں، سکول جاتے رہیں، اور اگر ایک گر گیا ہے تو اور لوگ بھی موجود ہیں۔ اس میں اس طرح کے بہت سے پیغامات ہیں۔‘‘

ڈاکٹر نعمانہ کا کہنا تھا کہ بہت سے طریقوں سے اجتماعی صدمے سے نمٹا جا سکتا ہے جس میں اکٹھے بیٹھ کر دعا کرنا، کسی شاعر کا کلام پڑھنا، موسیقی سننا یا گانا، کھیل، مصوری یا دوسرا کوئی کام کرنا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سکولوں کی اسمبلی اور کلاسوں میں بھی بچوں کے عدم تحفظ کو دور کرنے کے لیے ان سے بات چیت کی جا سکتی ہے۔

ماہر تعلیم ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہ کا کہنا تھا کہ اگرچہ دنیا کی تاریخ ظلم سے بھری ہوئی ہے مگر بچوں پر ظلم نئی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں ایک ایسی فکر پروان چڑھ رہی ہے جو بچوں کی اعصابی زندگی تباہ کرنا چاہتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب بچوں کا سامنا اس قسم کے ظلم سے ہوتا ہے یا وہ اس کے بارے میں دیکھتے اور سنتے ہیں تو ان کی آرزوئیں اور خواب متاثر ہوتے ہیں۔ وہ اپنی صلاحیتوں پر اعتبار کھو دیتے ہیں اور ان میں نفرت سی پیدا ہو جاتی ہے۔

’’کیا ہم اس بات کے لیے تیار ہیں کہ ہم اپنے نصاب میں ایک ایسا بیانیہ لکھ سکیں جو نفرت کا جواب نفرت سے نہ دے، ظلم کا جواب ظلم سے نہ دے، بدزبانی کا جواب بدزبانی سے نہ دے اور کہیں کسی طرح ہم یہ بتا سکیں کہ تہذیب سیاست سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے اور زیادہ اثر کرتی ہے۔ اور تہذیب کو قائم کرنے کے لیے اور اسے باقی رکھنے کے لیے تعلیم سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ اگر ہم بچوں کے شعور کی سلامتی چاہتے ہیں تو ریاست کا فرض ہے کہ وہ لوگوں کی زندگی کا احترام کرنا سکھائے، وہ لوگوں کو ایک محفوظ زندگی کا وعدہ دے سکے۔

XS
SM
MD
LG