رسائی کے لنکس

تارکین وطن کی آمد روکنے کے لیے سلووینیا اور سربیا کی نئی پابندیاں


دوسری طرف کروئیشیا کی طرف سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ تارکین وطن کے متعلق نئے قواعدو ضوابط کو لاگو کرے گا اور صرف انہیں کو آنے کی اجازت دی جائے گی جن کے پاس درست سفری دستاویزات ہوں گی۔

سلووینا اور سربیا نے کہا ہے کہ وہ ان تارکین وطن کی آمد کو روکنے کے لیے مزید رکاوٹیں کھڑی کریں گے جو بلقان کے راستے یورپی یونین کے ممالک میں پہنچنا چاہتے ہیں۔

یورپین یونین کے رکن ملک سلوینیا کی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ "نصف شب کے بعد مغربی بلقان کے راستے کسی بھی تارکین وطن کو نہیں آنے دیا جائےگا جیسا کی اب تک ہو چکا ہے"۔

اس فیصلے کے بعد نظر یہ آتا ہے کہ سلوینیا اب تارکین وطن کی آمد کو روک دے گا سوائے ان تارکین وطن کے جو یہاں سیاسی پناہ کی درخواست کریں گے یا جو انسانی بنیادوں پر داخل ہونا چاہیں گے اور ان سب کے معاملے کا انفرادی سطح پر جائزہ لیا جائے گا۔

گزشتہ اکتوبر کے بعد سلوینیا سے گزرنے والے 478,000 میں صرف 460 تارکین وطن نے سلوینیا میں سیاسی پناہ کی درخواست کی تھی جب کہ ان میں سے زیادہ تر یورپی یونین کے امیر ممالک میں چلے گئے۔

سربیا جو یورپی یونین کا رکن نہیں ہے، کا کہنا ہے کہ سلوینیا کے فیصلے سے یہ عیاں ہے کہ اب تارکین وطن کے لیے" بلقان کا راستہ بند ہو گیا ہے" اور وہ بھی ایسا ہی کرے گا۔

سربیا کی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سربیا سب تارکین وطن کا مرکز نہیں بننا چاہتا ہے اس لیے اس حوالے سے یہ اپنے اقدامات کو یورپی یونین کے رکن ممالک کے ساتھ ہم آہنگ کرے گا۔

دوسری طرف کروئیشیا کی طرف سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ تارکین وطن کے متعلق نئے قواعدو ضوابط کو لاگو کرے گا اور صرف انہیں کو آنے کی اجازت دی جائے گی جن کے پاس درست سفری دستاویزات ہوں گی۔

یونان کے مخلف علاقوں میں تیس ہزار سے زائد تارکین وطن پھنسے ہوئے ہیں جو شمال کی طرف سرحد بند ہونے کے بعد آگے نہیں جاسکتے ہیں۔

دوسری طرف اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزیں کا کہنا ہے کہ مقدونیا میں تقریباً 1,500 جبکہ سربیا میں تقریباً ایک ہزار تارکین وطن موجود ہیں۔

XS
SM
MD
LG