رسائی کے لنکس

اقوام متحدہ کی کمیٹی کے پاکستان کی فوجی عدالتوں پر 'تحفظات'


فائل فوٹو

انسانی حقوق اور وکلاء کی بعض تنظیمیں بھی قبل ازیں پاکستان میں فوجی عدالتوں میں انصاف کے تقاضے مبینہ طور پر پورے نا ہونے سے متعلق تحفظات کا اظہار کر چکی ہیں۔

اقوام متحدہ کی تشدد کے خلاف کمیٹی نے پاکستان میں فوجی عدالتوں کے قیام، مبینہ جبری گمشدگیوں اور قیدیوں کے خلاف ہونے والے تشدد کے واقعات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

یہ بات جنیوا میں اقوام متحدہ کی تشدد ، دیگر ظالمانہ اور توہین آمیز سزا کی روک تھام سے متعلق کنونشن میں پاکستان کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات کا جائزے لینے کے لیے منعقد ہونے والے ایک اجلاس کے دوران کہی گئی۔

منگل کو ہونے والے اجلاس میں پاکستان کے انسانی حقوق کے وزیر کامران مائیکل اور انسانی حقوق سے متعلق وزیر اعظم نواز شریف کے معاون خصوصی بیرسٹر ظفر اللہ خان اور وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار نے پاکستان کی نما ئندگی کی۔

کامران مائیکل نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے کنونشن کے تحت تجویز کیے گئے اقدامات پر عمل درآمد کیلئے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور اس سلسلے میں ان کا ملک اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت دیے گئےانسانی حقوق کے تحفظ کے اپنے وعدوں پر قائم ہے۔

تاہم کمیٹی نے پاکستانی شہریوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں اس کے بقول خفیہ طور پر چلائے جانے والے مقدمات اور دوران سماعت مبصرین کو عدالت میں بیٹھنے کی اجازت نا دینے کے معاملے سے متعلق بھی سوالات اٹھائے۔

انسانی حقوق اور وکلاء کی بعض تنظیمیں بھی قبل ازیں پاکستان میں فوجی عدالتوں میں انصاف کے تقاضے مبینہ طور پر پورے نا ہونے سے متعلق تحفظات کا اظہار کر چکی ہیں۔

تاہم پاکستان عہدیداروں کا موقف ہے کہ ان عدالتوں کا قیام پارلیمان سے منظور ہونے والی آئینی ترمیم کے تحت عمل میں لایا گیا ہے اور ان عدالتوں میں پیش ہونے والے ملزموں کو نہ صرف اپنی صفائی کا پورا موقع دیا جاتا ہے بلکہ انہیں فوجی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف اعلیٰ عدلیہ میں اپیل کا حق بھی حاصل ہے۔

پاکستان میں وکلاء کی ایک نمائندہ تنظیم سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر رشید اے رضوی نے کہا کہ وہ اقوام متحدہ کی تحفظات سے اتفاق کرتے ہوئے فوجی عدالتوں کو ملک کے نظام انصاف کے متوازی ایک نظام قراردیا۔

"میں سمجھتا ہوں کہ جو موجودہ عدالتی نظام ہے اس کے مقابلے پر یہ ایک نظام ہے اس میں کوئی انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے ہیں۔

پاکستان میں حکومت میں شامل عہدیداروں اوربعض مبصرین کا کہنا ہے کہ ملک کا موجودہ عدالتی نظام کئی وجوہات کی بنا پر دہشت گردی کے مقدمات پر جلد فیصلے دینے سے قاصر ہے لہذا مخصوص حالات میں عارضی انتظام کے طور پر فوجی عدالتیں قائم کی گئی ہیں۔

تاہم رشید ا ے رضوی کا کہنا ہے کہ ملک کے موجودہ عدالتی نظام میں اصلاحات سے ایسے چیلجنوں سے نمٹا جا سکتا ہے۔

" تھوڑی سے بہتری کی ضرورت ہے نا تو ہماری سول حکومتوں اور ناہی (ماضی میں ) فوجی حکومتیں نے توجہ دی ہے۔ پراسیکیوشن کے محکموں کے طریقہ کار کو بہتر کرنا ہے، تفتیش کرنے والے افسروں کی تربیت کا کوئی ایسا ادارہ نہیں جو ان کی تربیت کرے اور ذیلی عدالتوں کے ججوں کی تربیت کا کوئی مناسب ادارہ موجود نہیں ہے۔ "

واضح رہے کہ جنوری 2015ء میں ایک آئینی ترمیم کے تحت ملک میں دو سال کے لیے فوجی عدالتیں قائم کی گئی تھیں اور ان کی مدت رواں سال جنوری کے اوائل میں ختم ہونے کے بعد گزشتہ ماہ کے اواخر میں ایک اور آئینی ترمیم کے لیے ان کی مدت میں مزید دو سال کی توسیع کی گئی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس عرصے میں ملکی نظام عدل میں ضروری اصلاحات کے لیے کام کیا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG