رسائی کے لنکس

مستنصر حسین تارڑ 90ء کی دہائی کے آس پاس پروان چڑھنے والی پاکستانیوں کی ایک پوری نسل کے 'چاچا جی' ہیں

کراچی میں ہونے والے تین روزہ جشنِ ادب کے دوران میں جن مہمان ادیبوں کے گرد ان کے چاہنے والوں کی سب سے زیادہ بھیڑ نظر آئی، ان میں سرِ فہرست مستنصر حسین تارڑ تھے۔

مستنصر حسین تارڑ 90ء کی دہائی کے آس پاس پروان چڑھنے والی پاکستانیوں کی ایک پوری نسل کے 'چاچا جی' ہیں جن کی صبحیں پاکستان ٹیلی ویژن پر ان کی 'مارننگ ٹرانسمیشن' کے ساتھ طلوع ہوتی تھیں۔

لاہور میں مقیم تارڑ صاحب ایک ناول نگار بھی ہیں اور اخبارات میں کالم بھی لکھتے ہیں لیکن ان کا سب سے نمایاں تعارف ایک سفرنامہ نگار کا ہے اور وہ بلاتفاق اردو کے مقبول ترین اور سب سے زیادہ پڑھے جانے والے سفرنامہ نگار ہیں۔

'کراچی لٹریچر فیسٹول' کے پہلے روز ہونے والی کئی نشستوں میں سے ایک 30 کے لگ بھگ سفرناموں سمیت 48 کتابوں کے مصنف تارڑ صاحب کے ساتھ ایک نشست بھی تھی جسے انہوں نے اپنی بذلہ سنجی اور حاضر جوابی سے زعفران زار بنادیا۔

نشست کے آغاز میں مستنصر حسین تارڑ نے حال ہی میں شائع ہونے والے اپنے ناول 'اے غزالِ شب' سےچند اقتباسات سنائے جس کے بعد حاضرین کے ساتھ سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا۔

تارڑ صاحب کا کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی کوئی سفر، سفرنامہ لکھنے کی غرض سے نہیں کیا بلکہ ان کے بقول وہ ایک آوارہ گرد ہیں جسے سفر کیے بنا قرار نہیں آتا۔

تارڑ صاحب نے بتایا کہ انہوں نے اپنا پہلا سفر 1969ء میں کیا تھا جس کا احوال ان کےپہلے سفرنامے 'نکلے تری تلاش میں' کی صورت میں 1971ء میں منظرِ عام پر آیا۔

اس سوال کے جواب میں کہ ان کے سفرناموں میں اتنا 'فکشن ' کیوں ہوتا ہے، مستنصر حسین تارڑ نے مصنوعی ناراضی طاری کرتے ہوئے کہا، "میں کوئی رپورٹر یا منشی تو ہوں نہیں کہ جگہوں کے بارے میں سیدھی سیدھی معلومات لکھ دوں"۔

انہوں نے کہا کہ عام زندگی میں بھی جب ایک شخص کوئی جگہ دیکھتا ہے اور پھر اسے کسی دوسرے کے سامنے بیان کرتا ہے تو اس بیان میں 'فکشن' در آتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سفرنامہ ایک محدود 'کینوس' ہے جس کے لیے ایک خاص سفر کو 'فالو' کرنا پڑتا ہے۔ ان کے بقول چوں کہ بیشتر جگہیں ایک جیسی ہوتی ہیں لہذا سفرنامے کو دلچسپ بنانے کے لیے 'فکشن' شامل کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔

اپنی ناول نگاری کے بارے میں مستنصر حسین تارڑ کا کہنا تھا کہ تخلیق کا اصل مزہ 'فکشن' ہی میں آتا ہے۔ ان کے بقول یہ مزہ تخلیقِ کائنات جیسا ہے کیوں کہ یہ کائنات بھی اپنے تخلیق کار کے لیے ایک طرح سے 'فکشن' ہی ہے۔

اس سوال پر ان کے ناولوں کی کہانیوں کا ان کی ذات سے کتنا تعلق ہے، تارڑ صاحب کا کہنا تھا کہ دنیا کے بیشتر ناول سوانحی ہی ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے ناولوں کے کئی کردار ان کے آس پاس بسنے والوں سے ماخوذ ہیں جنہیں انہوں نے کہانی کے مطابق 'ڈویلپ' کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے ناول "قربتِ مرگ میں محبت' کے تینوں مرکزی کردار اصلی ہیں۔ مستنصر حسین تارڑ کا کہنا تھا کہ وہ کسی جگہ پر رہے بغیر اور کسی تہذیب کو بسرے بغیر اس کے بارے میں نہیں لکھ سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے تمام ناولوں میں ان کی ذاتی زندگی کے تجربات اور مشاہدات شامل ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG