رسائی کے لنکس

تعلقات میں کشیدگی سے پاک افغان ’تجارت کے حجم میں کمی‘


فائل فوٹو

فائل فوٹو

زبیر موتی والا نے کہا کہ اگرچہ افغانستان کے لیے کراچی کی بندرگاہ کے ذریعے تجارت ایک آسان اور کم خرچ راستہ ہے تاہم اُن کے بقول افغانستان اب متبادل راستہ بھی استعمال کر رہا ہے۔

افغانستان اور پاکستان کے درمیان باہمی تجارت کے فروغ کے لیے سرگرم کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں دو طرفہ تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے باہمی تجارت میں تقریباً نمایاں کمی آئی ہے۔

افغانستان پاکستان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے شریک چیئرمین زبیر موتی والا نے وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ وہ طویل عرصے سے دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تجارت کے فروغ کے لیے کوششیں کرتے رہے ہیں اور اب بھی اُن کی تنظیم کی طرف سے یہ معاملہ مختلف سطحوں پر اٹھایا بھی گیا ہے۔

’’اس بات کو ہماری تنظیم افغانستان پاکستان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے کئی سطحوں پر اٹھایا ۔۔۔۔ کہ یہ جو سیاست ہے یہ ہماری تجارت پر اثر انداز ہو رہی ہے اور اس میں بہت زیادہ کمی ہو گئی ہے اور میں نے دونوں حکومتوں سے درخواست کی کہ ہمیں سیاست اور تجارت کو الگ کر دینا چاہیئے۔ (تجارت اور سیاست) کو الگ الگ طریقے سے دیکھنا چاہیئے ۔۔۔ تاکہ یہ ایک دوسرے کو نقصان نا پہنچائیں۔‘‘

انھوں نے کہا کہ افغانستان پاکستان کا ایک بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔

’’آج جو روزمرہ کی چیزیں افغانستان میں استعمال ہوتیں ہیں ان میں 90 فیصد میڈان پاکستان ہوتی ہیں یہ تو ہمارے لیے ایک بڑی مارکیٹ ہے اور جہاں تک پاکستان کا معاملہ ہے تو یہ ہمارے لیے مسائل کا باعث بنے گی۔‘‘

تاہم زبیر موتی والا کے بقول حالیہ مہینوں میں دوطرفہ تجارت کا حجم بھی کم ہوا ہے۔

زبیر موتی والا نے کہا کہ اس صورت حال کی وجہ سے افغان حکام تجارت کے لیے متبادل راستوں کی تلاش کے لیے کوشاں ہیں۔

رواں سال مئی میں افغانستان نے ایران اور بھارت کے ساتھ ایک سہ فریقی سمجھوتہ کیا تھا، جس کے تحت ایرانی بندر گاہ چابہار سے افغانستان تک ایک تجارتی راہداری کی تعمیر شامل ہے۔

زبیر موتی والا نے کہا کہ اگرچہ افغانستان کے لیے کراچی کی بندرگاہ کے ذریعے تجارت ایک آسان اور کم خرچ راستہ ہے تاہم اُن کے بقول افغانستان اب متبادل راستہ بھی استعمال کر رہا ہے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ تجارت کو فروغ دینے کے عزم پر قائم ہیں اور کابل کے لیے پاکستان کے راستے ٹرانزٹ ٹریڈ کو سہل بنانےکے لیے کئی اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان دو طرفہ سالانہ تجارت کا حجم تقریباً دو ارب پچاس کروڑ ڈالر ہے تاہم زبیر موتی والا کا کہنا ہے کہ اس کو پانچ ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے لیکن ان کے بقول اس ہدف کے حصول کے لیے بہت محنت کی ضرورت ہے۔

XS
SM
MD
LG