رسائی کے لنکس

حالیہ مہینوں میں پاکستان اور روس کے درمیان دفاع اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون میں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ سال پاکستان نے روس سے کثیر المقاصد ہیلی کاپٹر ایم آئی 35 کی فراہمی کے ایک معاہدے پر دستخط کیے۔

روس کا ایک اعلیٰ سطحی وفد پاکستان کا دورہ کر رہا ہے جس کی قیادت روسی فیڈریشن کی فوجی اور تکنیکی امور کی وفاقی سروس کے ایک اعلیٰ عہدیدار فومن الیگزینڈر واسلیوچ کر رہے ہیں۔

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ 'آئی ایس پی آر' کی طرف سے جاری ایک بیان کے مطابق روسی وفد نے راولپنڈی میں واقع فوج کے صدر دفتر میں پاکستان فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے بھی ملاقات کی جس میں دفاعی تعاون سے متعلق اُمور پر بات چیت کی گئی۔

بیان کے مطابق ملاقات میں سکیورٹی اور فوجی تربیت کے امور میں پیش رفت اور دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان مشترکہ فوجی تعلقات کو وسعت دینے کے اقدامات کے بارے میں بات چیت کی گئی۔

بیان میں کہا گیا کہ روسی وفد کے سربراہ مسٹر الیگزینڈر واسیلیوچ نے علاقائی امن و استحکام کے لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان فوج کی کامیابیوں اور اقدامات کو سراہا۔

حالیہ مہینوں میں پاکستان اور روس کے درمیان دفاع اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون میں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ سال پاکستان نے روس سے کثیر المقاصد ہیلی کاپٹر ایم آئی 35 کی فراہمی کے ایک معاہدے پر دستخط کیے۔

دفاعی امور کی ماہر ماریہ سلطان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان دفاع شعبوں میں تعاون نا صرف پاکستان کے لیے مفید ہے بلکہ اس سے خطے پر بھی اچھے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

" یہ بہت زیادہ اہم ہے کیونکہ روس امریکہ کا مد مقابل رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ تکنیکی طور پر اس کی ٹیکنالوجی دنیا میں باقی ممالک کی نسبت آگے ہے اور ایک مرتبہ پاکستان اور روس کے دفاعی تعلقات بہتر ہوتے ہیں تو اس کے خطے پر بھی اچھے اثرات مرتب ہوں گے"۔

پاکستان اور روس کے درمیان گزشتہ سال اعلیٰ سطحی فوجی وفود کے تبادلے ہوئے اور پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے بھی اس دوران روس کا دورہ کیا تھا۔

پاکستان روایتی طور پر اپنی فوجی دفاعی صلاحیت کے فروغ اور فوجی سازوسامان کے لیے امریکہ پر انحصار کرتا رہا ہے تاہم گزشتہ کئی سالوں سے چین کے ساتھ بھی اس کا مختلف دفاعی شعبوں میں تعاون و اشتراک جاری ہے۔

اور اب حالیہ کچھ عرصے سے پاکستان روس کے ساتھ بھی اپنے دفاعی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہے۔

واضح رہے کہ نومبر 2014 میں پاکستان اور روس نے دونوں ملکوں کے درمیان عسکری شعبوں میں تعلقات کو وسعت دینے کے لیے ایک دو طرفہ دفاعی تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

XS
SM
MD
LG