رسائی کے لنکس

65 سالہ عبدالحمید ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم تھے اور اٹک شہر میں ایک ہومیوپیتھک کلنک چلا رہے تھے۔

صوبہ پنجاب کے شمالی ضلع اٹک میں احمدی برادری سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے قتل کردیا ہے۔

65 سالہ عبدالحمید ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم تھے اور آج کل اٹک شہر میں ایک ہومیوپیتھک کلنک چلا رہے تھے۔

پولیس کے مطابق ہفتے کو دیر گئے عبدالحمید دارالسلام کالونی میں اپنے گھر کے باہر کھڑے تھےجب نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ان پر فائرنگ کر دی۔ عینی شاہدین اور پولیس کے مطابق فائرنگ کرنے کے بعد حملہ آور موقع سے فرار ہو گئے۔

بتایا جاتا ہے کہ عبدالحمید کو سر میں گولی ماری گئی جس کی وجہ سے وہ شدید زخمی ہو گئے اور جب انہیں اسپتال منتقل کیا جارہا تھا تو وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے۔

پولیس کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نا کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا کہ نامعلوم حملہ آوروں کے خلاف انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت مقدمہ درج کر کے انہوں نے اس واقعہ کی تفتیش شروع کر دی ہے اور واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

دوسری طرف جماعت احمدیہ کے ترجمان سلیم الدین کے مطابق عبدالحمید کی کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی اور ان کے بقول انہیں صرف "احمدی" ہونے کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے اس قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ رواں سال اب تک احمدی برادری سے تعلق رکھنے والے تین افراد کو ہدف بنا کر قتل کیا جا چکا ہے۔

پاکستان میں گزشتہ سالوں کے دوران بھی احمدی برادری سے تعلق رکھنے والوں پر ہلاکت خیز حملے ہو چکے ہیں۔ ملکی آئین میں اس فرقے کے لوگ غیر مسلم ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ دہشت گردی و انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے وضع کردہ قومی لائحہ عمل کے تحت ملک میں مذہب و مسلک کی بنیاد پر تشدد کرنے والوں سے بھی نمٹا جا رہا ہے۔

تاہم سلیم الدین کا کہنا ہے کہ مذہب اور فرقے کی بنیادوں پر ہونے والے واقعات کی روک تھام کے لیے قومی لائحہ عمل پر بھر پور طریقے سے عمل درآمد ضروری ہے۔

XS
SM
MD
LG