رسائی کے لنکس

رئیس بھویان نے خود پر قاتلانہ حملہ کرنے والے کی جان بخشی کی مہم چلائی

  • عمران صدیقی

رئیس بھوئیان ڈلاس، ٹیکساس کے ایک چرچ میں

رئیس بھوئیان ڈلاس، ٹیکساس کے ایک چرچ میں

امریکہ پر گیارہ ستمبر 2001ءکے دہشت گرد حملوں کو دس سال ہوچکے ہیں، لیکن اب بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کی زندگیاں ان کے اثرات سے ابھی تک باہر نہیں نکل سکیں۔ انہی افراد میں شامل ہیں رئیس بھویان بھی، جو ایک بنگلہ دیشی تارک وطن ہیں اور گذشتہ دس برسوں سے امریکہ میں رہ رہےہیں۔

یہ نائین الیون سے چند دن بعد کا واقعہ ہے کہ رئیس بھویان حسب معمول امریکی ریاست ٹیکساس کے ایک پٹرول پمپ پر کیشیئر کے طور اپنی ڈیوٹی کررہے تھے کہ ایک سفید فام امریکی اسٹور میں داخل ہوا جس نے اپنا چہرہ کپڑے سے ڈھانپ رکھاتھا اور اس کے ہاتھ میں دونالی بندوق تھی۔ ریئس یہ سمجھے کہ وہ کوئی ڈاکو ہے اور اسٹور ٹوٹنا چاہتاہے۔ رئیس نے اسے رقم دینے کی پیش کش کی مگر اس نے خلاف توقع یہ پوچھا کہ اس کا تعلق کس ملک سے ہے اور پھر جواب کا انتظار کیے بغیر اس کے چہرے پر گولی مار دی۔
مارک سٹرومین جیل میں ایک وزیٹر سے بات کررہا ہے۔ اسکے کچھ ہی دنوں بعد اسکی سزائے موت پر عمل درامد کردیا گیا۔

مارک سٹرومین جیل میں ایک وزیٹر سے بات کررہا ہے۔ اسکے کچھ ہی دنوں بعد اسکی سزائے موت پر عمل درامد کردیا گیا۔

حملہ آور کو جلد ہی گرفتار کرلیا گیا۔ اس کے بارے میں معلوم ہوا کہ اس کا نام مارک سٹرومین تھا ۔ اس کا کہناتھا کہ اس کی بہن نائین الیون کے حملے کا نشانہ بنی تھی اور وہ اس کا بدلہ مسلمانوں سے لینا چاہتا تھا۔

رئیس پر گولی چلانے سے پانچ دن قبل اس نے ایک اور پٹرول پمپ پر کام کرنے والے ایک پاکستانی کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا اور اسی طرح جنوبی ایشیاء کے ایک اور باشندے کو اپنی دونالی بندوق کا نشانہ بنایاتھا، جو مسلمان بھی نہیں تھا۔ گیارہ سمتبر کے حملوں کے بعد اس کے نفرت کے جذبات اپنے عروج پر تھے۔

گرفتاری کے بعد سٹرومین نے اپنے جرم کا اقرار کرلیاتھا۔ اور اسے قتل کے جرم میں عدالت نے موت کی سزا سنا دی تھی۔

خوش قسمتی سے رئیس بھویان کی جان تو بچ گئی مگر اس کی ایک آنکھ ضائع ہوگئی اور اس کے چہرے کے اندر اب بھی گولی کے کئی ٹکڑے موجود ہیں جنہیں نکالا نہیں جاسکا ہے۔

بظاہر یہ نفرت کے جذبات سے جنم لینے والی ایک عام سی کہانی ہے اور اس کے کردار بھی معاشرے کے عام افراد ہیں ، جن کی زندگیاں ماحول اور گردو پیش کی صورت حال کا اثر قبول کرتی ہیں، مگر اس کہانی میں ایک نیا اور حیران کن موڑ اس وقت آیا جب بھویان نے، جس کے چہرے سے گولی کے نشان کئی برس گذر جانے کے باوجود ابھی تک محو نہیں ہوئے، یہ فیصلہ کیا کہ ، وہ اس اجنبی د شمن کو، جس نے اس کی جان لینے کی کوشش تھی، معاف کردے گا۔

رئیس اپنی ایک آنکھ کی روشنی کھوچکاہے، اور صحت یاب ہونے کے لیے اسے کئی برس تک سرجری کے مراحل سے گذرنا پڑا ہے۔ اس حملے کے بعد اسے معاشی مشکلات کا بھی سامنا رہاہے، مگر ان کا کہناہے کہ وہ مارک سٹرومین کی جان لینا نہیں چاہتا اور اسے پھانسی کے پھندے سے بچانا چاہتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ میں نے سٹرومین کو معاف کردیا ہے جو مجھے قتل کرنا چاہتا تھا۔

رئیس بھویان ان دنوںمارک سٹرومین کی جان بخشی کے لیے ایک عوامی مہم میں شامل رہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اسے معاف کردیا ہے، اس لیے عدالت بھی اسے معافی دے دے۔کیونکہ دس سال تک جیل میں اسے اپنے کیے کی کافی سزا مل گئی تھی اور وہ بالکل بدل گیاتھا۔

مگر رئیس کی یہ مہم کامیاب نہ ہوئی اور اسٹرومین کو جولائی میں موت کی سزا دے دی گئی ۔

وہ ایسا کیوں کررہےتھے؟

رئیس بھویان کا جواب بڑا سادہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بدلہ لینے کی بجائے معاف کرنا ایک محسن اور افضل اقدام ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کوئی انوکھی بات نہیں کررہے بلکہ قرآن اور اسلام کے اس درس پر عمل کررہے ہیں کہ جو شخص کسی ایک انسان کی جان بچاتا ہے، وہ گویا پوری انسانیت کی جان بچاتا ہے۔

XS
SM
MD
LG