رسائی کے لنکس

ایمرجنسی سے بچنے اور کم از کم امراض قلب کے مریض کو یا کسی بھی عام آدمی کو اچانک سینے یا دل میں درد کی شکایت پر فوری فرسٹ ایڈ فراہم کرنے کی غرض سے گلشن اقبال چورنگی پر فلائی اوور کے نیچے ’نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکلر ڈیزیز‘ نے ’موبائل اسپتال‘ شروع کیا ہے

کراچی میں جس تیزی سے دل کے امراض اور اس کے مریضوں میں اضافہ ہو رہا ہے، اس تیزی سے علاج کی سہولیات نایاب ہیں۔ نجی شعبے میں تو امراض قلب کے بہت سے اسپتال اور کلینک موجود ہیں، لیکن سرکاری شعبے میں ان کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔

’نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکلر ڈیزیز‘ شہر کا سب سے بڑا اور قابل اعتماد سرکاری اسپتال ہے۔ لیکن، شہر کے ایک کونے یا عام آبادی سے دور ہونے کے سبب یہاں پہنچنے ۔۔خاص کر ایمرجنسی کی صورت میں انتہائی مشکل ہی نہیں سارے شہر کے بے ہنگم ٹریفک کے سبب بیشتر اوقات نا ممکن ہو جاتا ہے۔

اس ٹریفک اور دیر سے اسپتال پہنچنے تک امراض قلب کے بے شمار مریض اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ یہ دوری طے کرنا جان جوکھوں میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

حالیہ سالوں میں شہری حکومت نے گنجان آباد علاقے میں ایک آدھ امراض قلب کے علاج کے لئے اسپتال کھولے بھی ہیں تو وہ شہری آبادی میں اضافے کے سبب ناکافی ہیں، جبکہ پرائیویٹ اسپتال میں علاج کا خرچہ اٹھانا عام آدمی کے بس کی بات نہیں۔

ایمرجنسی سے بچنے اور کم از کم امراض قلب کے مریض کو یا کسی بھی عام آدمی کو اچانک سینے یا دل میں درد کی شکایت پر فوری فرسٹ ایڈ فراہم کرنے کی غرض سے گلشن اقبال چورنگی پر فلائی اوور کے نیچے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکلر ڈیزیز (این آئی سی وی ڈی) نے ’موبائل اسپتال‘ شروع کیا ہے۔

موبائل اسپتال کا باقاعدہ افتتاح پیر کی شام صوبائی وزیر صحت سکندر علی میندھرو اور کراچی کے مئیر وسیم اختر نے کیا۔ اس موقع پر دیگر اہم سرکاری عہدیدار اور مقامی نمائندے بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔

وسیم اختر نے وائس آف امریکہ سمیت دیگر میڈیا نمائندوں سے گفتگو میں بتایا ’’موبائل اسپتال دراصل کنٹینرز میں شروع کئے گئے ہیں جن میں دل میں درد کی شکایت یا دل کا دورہ پڑنے کی صورت میں مریض کو فوری فرسٹ ایڈ امداد دی جاسکے گی، تاکہ مریض کو بہتر پوزیشن میں لاکر قریبی اسپتال منتقل کیا جاسکے۔‘‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایسے چھ موبائل یونٹ بالکل تیار ہیں اور شہر کے دیگر علاقوں میں جلد کام شروع کر دیں گے۔ اس مقصد کے لئے زیادہ تر چوراہے یا چورنگیاں استعمال میں لائی جائیں گی کیوں کہ عام لوگوں اور ایمرجنسی کا سامنا کرنے والوں کے لئے ان چورنگیوں تک پہنچنا نہایت آسان ہوتا ہے۔ تمام چورنگیاں گنجان آبادی والے علاقوں میں قائم ہیں۔ یہاں موجود موبائل اسپتال تک پہنچنا ہر خاص و عام کی دسترس میں ہوگا۔‘‘

صوبائی وزیر صحت سکندر علی میندھرو کا کہنا ہے کہ ’حکومت نے موبائل اسپتال میں تمام جدید آلات نصب کئے ہیں جو فرسٹ ایڈ کے وقت ضروری ہوتے ہیں۔ ان میں الیکٹرو کارڈیوگرام (ای سی جی) کی سہولت بھی دستیاب ہے۔ موبائل یونٹ کو ضرورت پڑنے پر ایک جگہ سے دوسری جگہ بھی منتقل کیا جا سکتا ہے۔ یہ اقدام غریب اور عام لوگوں کے لئے اٹھایا گیا ہے اور وہی سب سے زیادہ اس سے فیضیاب ہوسکیں گے ۔‘‘

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG