رسائی کے لنکس

یہ عمارت ’اگیاری‘ ہے۔ یعنی پارسی برادری کا ’آتش کدہ‘ ۔۔۔جس کا پورا نام ’ایچ جے بہرانہ پارسی دار مہر‘ ہے۔ اس کے دروازے پر ہی آپ کو یہ عبارت لکھی نظر آجائے گی کہ ’اندر آنا منع ہے‘۔۔اور ۔۔۔ ’صرف ممبران کے لئے‘

’صدر‘۔۔ شہرقائد کا وہ علاقہ ہے جہاں ہفتے کے ساتوں دن اور دن کے چوبیس گھنٹے لوگوں کی آمدورفت رہتی ہے لیکن اسی بازار میں ایک عمارت ایسی بھی ہے جہاں یہ بورڈ لگا ہے کہ ’اندر آنا منع ہے‘۔۔اور ۔۔۔’صرف ممبران کے لئے۔‘

یہ عمارت ’اگیاری‘ ہے۔ یعنی پارسی برادری کا ’آتش کدہ‘۔۔۔جس کا پورا نام ’ایچ جے بہرانہ پارسی دار مہر‘ ہے۔ ڈاکٹر داوٴد پوتہ روڈ پر بوہری بازار کے قریب واقع یہ ایک قدیم عمارت ہے جو عشروں پہلے تعمیر ہوئی تھی۔ لیکن، اس کی صاف صفائی اور چمکتا ہوا رنگ و روغن دیکھ کر کہیں سے اس کی درازی عمر کا اندازہ نہیں ہوتا۔ آتش پرست یا پارسی برادری کا یہ عبادت خانہ کئی لحاظ سے سب سے منفرد اور اپنی اایک الگ پہچان رکھتا ہے۔

جس جگہ یہ عمارت واقع ہے وہاں لوگوں اور گاڑیوں کا اس قدر رش ہوتا ہے کہ نہ تل دھرنے کو جگہ ملتی ہے اور نہ کان پڑی آواز سنائی دیتی ہے۔ گو کہ عمارت کے نگراں جان آہووالیہ کی جانب سے وائس آف امریکہ کے نمائندے کو عمارت کے محدود حصے تک دورے کی اجازت ملی تھی۔ تاہم، اس حصے سے ہی پوری عمارت میں پھیلی خاموشی اور ہرسو پھیلے سکوت کا بخوبی اندازہ ہوتا تھا۔ ہر شے ایک ترتیب سے رکھی ہوئی ہے اور کہیں گردوغبار کا شائبہ تک نہیں۔

ایک سنگین مسئلہ
پارسی برادری کو مسلسل کمی کا سامنا ہے۔ یہاں تک کہ یہ مسئلہ نہایت سنگین اور حل طلب ہے۔ کراچی انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ انٹرپرینوشپ نامی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق’کراچی میں اس وقت پارسی کمیونٹی کے صرف 1800افراد باقی رہ گئے ہیں اور ان میں سے بھی60 فیصد 60سال سے زیادہ عمر کے ہیں۔‘

رپورٹ کے مطابق ’گزشتہ پانچ سے آٹھ سالوں کے درمیان نسبتاً کم عمر پارسی افراد عمر رسیدہ والدین کے علاوہ اپنے تمام اہل خانہ کے ہمرا ہ کراچی کو خیرباد کہہ گئے ہیں اور چونکہ پارسی برادری کی شرح خواندگی 100فیصد ہے اور یہ شہر کی امیر کمیونٹی میں شمار ہوتی ہے۔ اس لئے ان کا جانا ملک کے لئے نقصان کا باعث ہے۔‘

تحقیقی حوالے بتاتے ہیں کہ پارسی مذہب کو اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ پارسی صرف پیدائشی ہی ہوسکتے ہیں ۔ اس لئے اس مذہب کی تبلیغ بھی نہیں کی جاتی۔ اس وجہ سے بھی پاکستان ہی نہیں پوری دنیا میں ان کی آبادی گھٹ رہی ہے۔

شہر بھر میں نو پارسی کالونیز ہیں۔ زیادہ تر افراد پرانے ایریاز میں رہنا پسند کرتے ہیں ۔ نئی جنریشن زیادہ تر انگریزی بولتی اور سمجھتی ہے جبکہ آبائی زبان گجراتی سے بھی بخوبی واقف ہے۔ شہر میں پارسی برادری کے دو ہی عبادت کدے ہیں ایک صدر میں اور دوسرا پاکستان چوک پر واقع ہے۔ شہرکی بیشتر آبادی پارسی مذہب، پارسی برادری اور طریقہ عبادت سے لاعلم ہے اس لئے یہ تمام شے ان کے لئے ’اسراریت‘ کا درجہ رکھتی ہیں۔ کچھ ذوق بھی کم ہے ورنہ کتابوں اور شہر کی تاریخ پارسی برادری کے ذکر سے بھری پڑی ہے۔

کراچی کی معمار برادری
تاریخ شاہد ہے کہ یہ برادری کراچی کی معمار ہے۔ شہر کو لیڈی ڈیفرن اسپتال، اسپنسر آئی ہوسپیٹل، ماما پارسی اسکول، این ای ڈی یونیورسٹی اور پارسی ہائی اسکول جیسے ادارے اسی برادری کی دین ہیں۔ شہر کے پہلے مئیر جمشید نسروانجی رستم جی مہتا، ادے شیرکاوٴس جی اور ایڈولجی ڈنشا بھی پارسی ہی تھے۔

پارسی کمیونٹی میں ایک چیز جس کا اعلان باقاعدگی سے کیا جاتاہے وہ ہے کسی کی موت کا اعلان۔۔تقریباًہر مہینے کسی نہ کسی کی موت کا اعلان سامنے آتا ہے جو پارسی کالو نی کے اندر رکھے بلیک بورڈ پر چاک سے لکھا جاتا ہے۔ جو پہلا شخص اس اعلان کو دیکھتا ہے وہ اسے آگے بڑھ دیتا ہے اوریوں پوری کمیونٹی کو خبر ہوجاتی ہے۔ اس کے برعکس پیدائش کی خبر ’سرپرائز‘ کے طور پر سامنے آتی ہے۔

XS
SM
MD
LG