رسائی کے لنکس

حالیہ سالوں میں پاکستان میں ایف ایم ریڈیوز کا گویا ایک جال سا بچھ گیا ہے۔ملکی فضاوٴں میں درجنوں ایف ایم چینلز کام کر رہے ہیں جن کا دائرہ کار 50 سے زائد شہروں تک پھیلا ہوا ہے۔ لیکن لمحہ فکریہ ، یہ ہے کہ زیادہ تر چینلز پر بھارتی پروگرامز، گانوں اور فلموں کا رنگ چھایا ہوا ہے ۔۔

تپتی دوپہر میں، دور دور تک پھیلے کھیتوں کے درمیان، نیم کے گھنیرے درخت کی چھاوٴں میں بان کی چارپائی پر، دونوں ہتھیلیوں کا تکیہ بنا کر لیٹنے اور قریب رکھے ٹرانسسٹر ۔۔اور اس پر بجتے کسی رسیلے گانے کو سننے میں کیا مزہ آتا ہے ۔۔شاید اب یہ مزے بہت ہی کم لوگوں کو یاد ہوں گے۔

یہ پاکستان کے سنہری ماضی سے جڑی ان سدا بہار دنوں کی یادیں ہیں جب ریڈیو عام آدمی کے دل تک جانے کاکامیاب ’شارٹ کٹ‘ ہوا کرتا تھا۔

یہ شارٹ کٹ آج بھی اتنا ہی کامیاب ہے۔۔آج بھی پنجاب کے عطااللہ خان عیسیٰ خیلوی کے مشکل بول ہوں یا سندھ میں مائی بھاگی اور تاج مستانی کے سر اور تان۔۔یا پھر آج کے دور کے پاپ اور ریپرز ۔۔۔سب کے سب ۔۔اسی کے راستے لوگوں کے دلوں میں اترنے کا فن سیکھتے ہیں ۔۔کیوں کہ سنگنگ آواز کے سوا کچھ نہیں ۔۔اور آواز کی لہریں ہی دراصل ’ریڈیو‘ ہے۔

ملک میں ایک ایسا دور بھی تھا جب طویل عرصے تک ملک میں ریڈیو کی حکمرانی تھی۔ پھر جب سنہ ساٹھ کے عشرے میں ٹرانسسٹر کی آمد ہوئی تو ریڈیو سننے والوں کا دائرہ ان لاکھوں گھروں تک بھی پہنچ گیا جہاں بجلی موجود نہیں تھی۔

ریڈیو پاکستان کا ’جیدی کے مہمان‘، بی بی سی کا ’سیربین‘، آل انڈیا ریڈیو کا ’آپ کی فرمائش‘ و ’تعمیل شب‘ اور ریڈیو سیلون کا ’بیناکا گیت مالا‘ اس دور کے دہ پروگرامز تھے جن کا کئی کئی سال تک کوئی ثانی پیدا نہیں ہوسکا۔ ان پروگرامز نے اطہر شاہ خان، زیڈ اے بخاری اور امین سیانی جیسے متعدد بے مثال سداکار و عظیم شخصیات پیدا کیں۔

لیکن 70ء کے عشرے میں ٹی وی کی مقبولیت نے ریڈیو کے لئے نئے چیلنجز کھڑے کردئیے۔کبھی فنڈز کی کمی کا مسئلہ درپیش ہوا تو کبھی چینلز کی کمیابی آڑے آتی رہی۔۔۔اور یوں ریڈیو کو لوگ بھولتے چلے گئے۔ ریڈیو سننے والوں کا دائرہ سمٹتا چلا گیا یہاں تک کہ نئی نسل ریڈیو کے کمالات سے بھی ناواقف ہونے لگی تاہم نئی صدی کے شروع ہوتے ہی ریڈیو کی قسمت نے ایک مرتبہ پھر یاوری کی۔

سنہ 2002 میں ایف ایم ریڈیو چینلز نے پاکستان میں اپنا دوبارہ ’قد‘ نکالنا شروع کردیا جس کے بعد آج یہ صورتحال ہے کہ ملک میں ایف ایم ریڈیو چینلز کا بہت وسیع اور گنجان نیٹ ورک قائم ہو گیا ہے۔

پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے مطابق، ملکی فضاوٴں میں اس وقت درجنوں ایف ایم چینلز کام کر رہے ہیں جن کا دائرہ کار50سے زائد شہروں تک پھیلا ہوا ہے۔ لیکن، لمحہٴ فکریہ یہ ہے کہ زیادہ ترچینلز پر بھارتی پروگرامز، گانوں اور فلموں کا رنگ چھایا ہوا ہے ۔کئی چینلز پر تو پوری پوری فلمیں من و عن سنائی جاتی ہیں۔

اس وقت تقریباً 50ایف ایم ریڈیو چینلز کام کررہے ہیں۔ تمام ریڈیو اسٹیشنز باقاعدہ ایک ریگولیٹری اٹھارٹی ’پیمرا‘ کے تحت کام کررہے ہیں۔ یہی ادارہ نجی میڈیا زکو لائسنس جاری کرنے کا محاذ ہے۔

پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن کی جانب سے ایف ایم ریڈیو ٹرانسمیشن کا آغاز اپریل1993میں کراچی اسٹیشن سے ’ایف ایم گولڈ‘ کے نام سے کیا گیا تھا۔بعد میں یہ دائرہ لاہور اور اسلام آباد تک پھیلتا چلا گیا۔

سات گھنٹے کی نشریات کا فوکس میوزک خصوصاً پوپ موسیقی تھی۔پروگرام کونٹینٹ کے حساب سے اسے پیش کرنے کے لئے انرجی سے بھرپور نوجوان آوازوں کا انتخاب کیا گیا جو ٹرانسمیشن کو غیرروایتی انداز میں پیش کرتے تھے۔ یہ اسٹائل ناصرف خاصا مقبول ہوا، بلکہ اس نے ریڈیو سے وابستہ لوگوں کے حوصلے بھی بلند کردئیے۔

اکتوبر1998ءمیں ان تینوں ایف ایم اسٹیشنز کو ایک نیا نام ’ایف ایم 101‘ دے دیا گیا اور نشریات کا وقت آدھی رات تک بڑھا دیا گیا۔ سنہ 2003میں ایف ایم 101کے اسٹیشنز حیدرآباد اور فیصل آباد میں بھی قائم کردئیے گئے۔

روزنامہ ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق، سنہ 1994میں ایک اورایف ایم ریڈیو اسٹیشن ’ایف ایم 100‘ نے اسلام آباد، لاہور اور کراچی سے اپنی نشریات شروع کیں۔ گو کہ اس وقت تک حکومت نے پرائیوٹ ریڈیو اسٹیشن کھولنے کی نہ رسمی اجازت دی تھی اور نہ ہی ریگولیٹری اتھارٹی پیمرا کا قیام عمل میں آیا تھا۔

ایف ایم 100کی نشریات بھی ایف ایم 101کی طرح موسیقی سے بھرپور اورنوجوان طبقے کے لئے تھیں۔کراچی میں ایک اور ایف ایم ریڈیو ،ایف ایم 107نے اسی طرز پر ٹرانسمیشن کا آغاز کیا۔

رواں ماہ گیارہ اگست کو پاکستان کے صدر ممنون حسین نے ریڈیو پاکستان کے ایک اور نئے ایف ایم چینل ’ورثہ‘کا افتتاح کیا ہے ۔ افتتاح کے موقع پر صدر نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ ” ورثہ“ پاکستانی شناخت کو مزید اجاگر کرے گا ۔یہ ریڈیو پاکستان ہی ہے جس نے 1947ء میں سب سے پہلے قیام پاکستان کا اعلان کیاتھا۔ریڈیو پاکستان ملک کی شناخت ہے ۔

ریڈیو براڈکاسٹنگ میں اہم پیش رفت پروگرامز کے دوران فون کالز کا ہونا تھا۔ریڈیو کے عروج کے دور میں ریڈیو پروگرامز کرنے والے اورسامعین کے درمیان رابطہ کا ذریعہ خط ہواکرتے تھے۔ لوگ ’آپ کی فرمائش‘ میں خط لکھ کر اپنے پسندیدہ گانے سننے کا انتظارکرتے تھے یا پھر کسی پروگرام پر تبصرہ کردیا کرتے تھے۔کچھ تو ایسے بھی تھے جواپنے پسندکے گانے سے پہلے ریڈیو پر محض اپنا نام سن کر خوش ہوجاتے تھے۔

لائیو فون کالز کا نظام متعارف ہوا تو ریڈیو سننے والے پریزینٹرز سے ہلکی پھلکی باتیں کرنے لگے جن سے ریڈیو سننے والے ہزاروں سامعین بھی انجوائے کرتے تھے۔

ایک اور نیا ٹرینڈ جو ایف ایم ریڈیو کے آنے کے بعد پیدا ہوا وہ یہ تھا کہ ریڈیو اسٹوڈیوز کمپیوٹرائزڈ ہونے لگے ۔اب ایف ایم کی میوزک لائیبریز کمپیوٹرائزڈ ہوتی ہیں ۔ پریزینٹر کوئی بھی میوزک نمبر کمپیوٹر سے براہ راست آن ائیر کرسکتے ہیں۔

ریڈیو پاکستان کی ڈائریکٹر جنرل ثمینہ پرویز کا کہنا ہے کہ ’محدود وسائل اور ماضی میں اعلیٰ حکام کی کم توجہ کے باوجود ریڈیو پاکستان نے کبھی اپنے نشریاتی معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔یہی وجہ ہے کہ آج بھی اس کا آرکائیو سب سے بڑا ہے۔آج بھی سب زیادہ اور کسی حد تک نادر تاریخی پروگرامز ریڈیو پاکستان کے علاوہ کسی کے آرکائیو کا حصہ نہیں ۔ اب ان پروگرامز کو ڈیجییٹلائز کیا جارہا ہے ۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ریڈیو پاکستان مسلسل ترقی کا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔‘

سنہ 90 کے عشرے میں، کراچی اسٹیشن نے ریڈیو کے عروج کے دور میں پیش کئے جانے والے ڈرامہ فیسٹول،اسٹوڈنٹس ویک اور طرحی مشاعرے کی روایت کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی۔لیکن اس وقت زیادہ تر چینلز پر بھارتی پروگرامز، گانوں اور فلموں کا رنگ چھایا ہوا ہے۔دن بھر بھارتی موسیقی اور فلموں کے تذکرے جاری رہتے ہیں ۔ ایسے میں نئی نسل فوری طور پر اس سوال کا جواب نہیں دے پاتی کہ چینل پاکستانی ہیں تو ان پر بھارتی موسیقی کا کیا کام ہے۔۔۔!!!

XS
SM
MD
LG