رسائی کے لنکس

’میں نے گانوں پر سب سے زیادہ فوکس کیا ہے۔ فلم میں 6 گانے ہیں جنہیں ناصرف وائیڈ اینگل پر شوٹ کیا ہے بلکہ ان سے متعلق چھوٹی سے چھوٹی بات پر بھی بھرپور توجہ دی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ جب ایک ناظر فلم دیکھ کر سنیما ہال سے باہر نکلے تو گانے گنگناتا ہوا نکلے‘: کامران اکبر

رواں سال ایک کے بعد ایک نئی پاکستانی فلمیں ریلیز ہونے کی نوید نے ملکی سنیما انڈسٹری کے حوصلے بلند کردیے ہیں۔ پچھلے ہفتے ہم نے فلم ’بن روئے‘ سے متعلق آپ کو بتایا تھا اور آج ہم ایک اور نئی فلم ’ہلا گلا‘ کے بارے میں آپ کو بتائیں گے۔

جلد آنے والی فلم ’ہلا گلا‘ ہلکی پھلکی کامیڈی پلس کمرشل فلم ہے۔فلم کی سب سے بڑی خاصیت اس کا میوزک اور مختلف شہروں کی ایک نئے انداز میں پکچرائزیشن ہے۔

وائس آف امریکہ سے خصوصی بات چیت میں فلم کے ڈائریکٹر کامران اکبر خان کا کہنا ہے کہ ’میں نے گانوں پر سب سے زیادہ فوکس کیا ہے۔ فلم میں 6 گانے ہیں جنہیں ناصرف وائیڈ اینگل پر شوٹ کیا ہے بلکہ ان سے متعلق چھوٹی سے چھوٹی بات پر بھی بھرپور توجہ دی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ جب ایک ناظر فلم دیکھ کر سنیما ہال سے باہر نکلے تو گانے گنگناتا ہوا نکلے، اسے لگے کہ فلم نے ہر انداز سے اسے انٹرٹین کیا ہے۔‘

کامران اکبر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’گانوں کو مزید خوبصورت اور یادگار بنانے کے لئے انہوں نے دو گانے تھائی لینڈ میں بھی پکچرائز کرائے ہیں۔ ان گانوں سے دو اور بڑے نام جڑے ہوئے ہیں۔ راحت فتح علی خان اور ساحر علی بگا۔ فلم کا میوزک بگا صاحب نے ہی ترتیب دیا ہے۔ انہی کی کاوشوں سے راحت فتح علی جیسے بڑے اور عظیم سنگر نے ہمیں وقت دیا۔ اب تک جتنی فلمیں بھی ریلیز ہوئی ہیں ان میں سے کسی میں بھی راحت فتح علی کے گانے موجود نہیں۔ آنے والی فلموں کی بات دیگر ہے ۔ میں شکرگزار ہوں ان کا بھی اور ساحر علی بگا صاحب کا بھی جن کی بدولت ’ہلا گلا‘ کو راحت فتح علی جیسے بڑے سنگر کی آواز ملی۔‘

فلم سے جڑی دوسری خاص بات سے متعلق پوچھے گئے سوال پر کامران اکبر خان کا کہنا تھا ’میں کراچی اور دوسرے بڑے شہروں اور دیگر مقامات کواسی انداز میں دکھانا چاہتا تھا جس انداز میں بالی ووڈ والے دکھاتے ہیں۔ بے شک ائیرپورٹ سے باہر نکلتے ہی لوگ سڑکوں پر سوتے نظر آتے ہوں لیکن انہیں پیش اس انداز میں کیا جاتا ہے جیسے پیرس یا نیویارک میں گھوم رہے ہوں۔ حالانکہ ان کے شہروں کے مقابلے میں ہمارے شہر جیسے کراچی، لاہور یا اسلام آباد وغیرہ بہت صاف ستھرے اور فریش ہیں لہذا ہم نے یہی کوشش کی ہے کہ اپنے شہروں کو نیٹ اور کلین انداز میں دکھائیں تاکہ بیرون ملک رہنے والوں پر ہمارے شہروں کا اچھاتاثر قائم ہوسکے۔‘

فلم کب ریلیز ہوگی؟اس کے جواب میں کامران اکبر کا کہنا تھا کہ ’پہلے یہ پروگرام تھا کہ فلم کو عید الفطر پر ریلیز کیا جائے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ملک میں صرف ساٹھ یاستر سنیما ہالز ہیں بھارت کی طرح ہزاروں کی تعداد میں نہیں۔ ان سنیماہالز پر عید کے موقع پر پہلے ہی ’بن روئے‘ یاسر نواز کی ’رانگ نمبر‘ اور ایک انگریزی فلم ’ٹرمینیٹر‘ ریلیز کے لئے تیار ہے پھر بھارت کی بھی کئی فلمیں فلمیں عید کے موقع کے لئے موجود ہوں گی ۔ میں کہتا ہوں کہ ہم نے آپس میں تو کوئی مقابلہ کرنا نہیں ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ سب کی فلمیں چلیں اگر سب کی سب ایک ہی ماہ میں ایک ہی موقع پر ریلیز کردی گئی تو باقی مہینوں میں ریلیز کے لئے ہمارے پاس کچھ نہیں ہوگا کیوں ابھی ہم محدود تعداد میں ہی فلمیں بناسکتے ہیں۔ پلاننگ یہ ہونی چاہئے کہ سارے سال فلمیں ریلیز ہوتی رہیں۔ یہی سوچ کر میں نے عید کے موقع پر ’ہلاگلا‘ کی ریلیز کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ نئی تاریخ کا اعلان ایک دو روز میں کریں گے۔‘

ڈرامے کی کاسٹ کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ’فلم کی زیادہ تر کاسٹ ٹی وی ڈراموں سے وابستہ رہی ہے۔ ان میں جاوید شیخ، اسماعیل تارا، غزالہ جاوید، سدرہ بتول، عاصم محمود، اشرف خان، زار گل، حنا رضوی، جسیمین، عدیل واڈیہ اور مریم انصاری وغیرہ شامل ہیں۔ ان میں سے کچھ فنکار نئے تو کچھ تجربہ کار ہیں جبکہ فلم کے پروڈیوسر حنیف محمد ہیں۔ کہانی کا مرکزی خیال راحیلہ مشتاق کا ہے جبکہ میں نے فلم کی ڈائریکشن دینے کے ساتھ اسکرپٹ پلے بھی خود ہی لکھا ہے۔‘

XS
SM
MD
LG