رسائی کے لنکس

افغان علاقے سے گولہ باری، باجوڑ میں ایک شخص ہلاک


فائل فوٹو

فائل فوٹو

پاک افغان سرحد پر دراندازی اور سرحد پار فائرنگ کے تبادلے کوئی نئی بات نہیں ہے اور ایسے واقعات دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا باعث بھی رہے ہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ میں سرحد پار افغانستان سے داغے گئے دو گولے گرنے سے کم از کم ایک شخص ہلاک ہو گیا۔

سرکاری میڈیا کے مطابق سرحد پار سے دو گولے چہار منگ کے علاقے میں ایک گھر پر گرے جس سے ایک شخص موقع پر ہلاک ہو گیا۔

گولہ باری سے گھر کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

تاحال اس کی مزید تفصیلات سامنے نہیں آ سکی ہیں لیکن باجوڑ میں اس سے قبل بھی سرحد پار سے گولہ باری اور فائرنگ کے واقعات ہو چکے ہیں۔

افغانستان کی طرف سے اس بارے میں کوئی ردعمل تاحال سامنے نہیں آیا ہے۔

رواں سال جولائی میں پاکستانی حکام نے بتایا تھا کہ درجنوں مشتبہ عسکریت پسندوں نے سرحد پار افغانستان سے پاکستانی علاقے میں چیک پوسٹوں اور دیہاتوں پر حملہ کیا۔

پاک افغان سرحد پر دراندازی اور سرحد پار فائرنگ کے تبادلے کوئی نئی بات نہیں ہے اور ایسے واقعات دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا باعث بھی رہے ہیں۔

پاکستان کا موقف ہے کہ اس نے اپنے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف بھرپور فوجی کارروائی شروع کر رکھی ہے اور افغانستان کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی طرف سرحد کی موثر نگرانی کے لیے ٹھوس اقدامات کرے تاکہ عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت کو روکا جاسکے۔

افغانستان بھی پاکستان پر سرحد پار فائرنگ گولہ باری کا الزام عائد کرتا رہا ہے لیکن پاکستانی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ صرف افغان علاقوں سے پاکستان میں آ کر حملے کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرتا ہے۔

یہ حالیہ واقع ایسے وقت پیش آیا جب پاکستان افغانستان سے تعلقات کو وسعت دینے اور دوطرفہ سرحد کو موثر بنانے کے لیے کوششوں میں مصروف ہے۔

پاکستانی وزیراعظم کے مشیر برائے اُمور خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز نے گزشتہ اتوار کو کابل کا دورہ کر کے نئے افغان صدر اشرف غنی کو وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے پاکستان آنے کی دعوت دی تھی۔

سرتاج عزیز کا وطن واپسی پر کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین افغانستان سمیت کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا اور اُن کے بقول افغانستان نے بھی ایسے ہی عزم کا اظہار کیا ہے۔

تاہم سرتاج عزیز کے بقول اس مقصد کا حصول سرحد کی موثر نگرانی ہی سے ممکن ہے۔

XS
SM
MD
LG