رسائی کے لنکس

وہیل مچھلی بلوچستان کے ساحلی علاقے کھوبر سے تقریباً 122 میل اور کراچی سے 150 کلومیٹر دور ماہی گیروں کے جال میں پھنسی تھی تاہم ماہرین کی مدد سے کچھ ہی دیر بعد اسے دوبارہ سمندر میں چھوڑ دیا گیا۔ اس کی لمبائی 4 میٹر اور وزن 900 کلو تھا۔

پاکستان کے ساحلوں پر اِن دنوں نایاب مچھلیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ یہ مچھلیاں اس حوالے سے نایاب ہیں کہ عموماً یہ بحیرہ عرب میں نہیں پائی جاتیں۔

جمعرات کو بھی ایسی ہی ایک وہیل مچھلی ماہی گیروں کے جال میں پھنس کر کنارے تک آگئی جس کا وطن صومالیہ اور جنوبی افریقہ کے سمندری علاقے ہیں۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے تکنیکی مشیر محمد معظم خان کا کہنا ہے کہ اسے ’لانگ مین بیکڈ وہیل‘ کہا جاتا ہے جبکہ اس کا سائنسی نام ’انڈو پیکٹس انڈو پیسیفک‘ ہے ۔ اس وہیل مچھلی کو ’بوٹل نوز‘ یا ’انڈو پیسیفک‘ بھی کہا جاتا ہے۔ بحیرہ ِعرب میں اس کا نظر آنا غیر معمولی واقعہ ہے کیوں کہ مچھلی کی یہ نسل 1563 میڑز گہرے سمندر میں پائی جاتی ہے۔

وہیل مچھلی بلوچستان کے ساحلی علاقے کھوبر سے تقریباً 122 میل اور کراچی سے 150 کلومیٹر دور ماہی گیروں کے جال میں پھنسی تھی تاہم ماہرین کی مدد سے اسے کچھ ہی دیر بعد دوبارہ سمندر میں چھوڑ دیا گیا۔ اس کی لمبائی 4 میٹر اور وزن 900 کلو تھا۔

سمندری حیات کے ماہرین کے مطابق لانگ مین بیکڈ وہیل مالدیپ، کینیا اور سری لنکا میں بھی دیکھی جا چکی ہے۔ گزشتہ ڈھائی سال کے دوران 15 وہیلز، شارک، چوڑے دھانے والی تین من ٹاریز اور دو سن فش کو جال میں پھنسنے کے باوجود سمندر میں دوبارہ زندہ چھوڑا جا چکا ہے۔

لانچ کے کپتان اقرار محمد کا کہنا ہے کہ وہیل مچھلی کی جسامت دیکھ کر ہی انہیں اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ نایاب مچھلی ہے۔

XS
SM
MD
LG