رسائی کے لنکس

بعد ازاں بشریٰ انصاری نے فریدہ خانم کو اظہار خیال کے لئے مدعو کیا ۔فریدہ خانم نے تمام گلو کاروں کی پرفارمنس کو سراہتے ہوئے کہا کہ سب نے بہت مشکل غزلوں کو بہت اچھے انداز میں گایا ۔ شام کا اختتام فریدہ خانم کی خصوصی پرفارمنس کے ذریعے ہوا ۔اس موقع پر انہوں نے اپنی چند مشہور غزلوں کے مکھڑے بھی گنگنائے ۔

فریدہ خانم پاکستانی موسیقی کا ایسا نام ہے جس کے بغیر شاید غزل سرائی کی تاریخ مکمل ہی نہ ہو۔ ایک سے ایک شاندار اور مشہور غزل ان کی آواز سے دنیائے موسیقی میں امر ہوئی۔

پاکستان ٹی وی کے عروج کے دور کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے والے لوگ گواہ ہیں کہ اس دورمیں پی ٹی وی، غزل اور فریدہ خانم ایک دوسرے کے لئے لازم تھے۔ موسیقی اور دیگر فنون لطفیہ سے تعلق رکھنے والوں کا خیال ہے کہ پاکستان میں ٹی وی چینلز کی بھرمار ہے لیکن آج بھی جو چینل نئے سے نئے اور کامیاب تجربات کرکے فن موسیقی اور فنکاروں کوپی ٹی وی کی طرح ہی زندہ رکھے ہوئے ان میں ’ہم ٹی وی نیٹ ورک‘ سب سے منفرد ہے۔

اس چینل کی انفرادیت کی مثال وہ محفل بھی ہے جو گزشتہ ہفتے لاہور میں معروف غزل گائیک فریدہ خانم کے اعزاز میں ”وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا“ کے عنوان سے سجائی اور سنواری گئی۔ اس یادگار محفل موسیقی میں خود فریدہ خانم بھی شریک ہوئیں جبکہ معروف گلوکار سجاد علی ‘ فریحہ پرویز ‘ بینش پرویز‘ کنول افتخار ‘ بشریٰ انصاری اور راحت ملتانیکر نے فریدہ خانم کی معروف غزلیں گاکرانہیں زبردست انداز میں خراج تحسین پیش کیا ۔

تقریب میں معروف گلوکاروں کے ساتھ ساتھ ڈیزائنرز ‘ صنعت و تجارت سے وابستہ شخصیات کے ساتھ ساتھ معززین شہر کی بھی بڑی تعداد شریک تھی۔

محفل کا آغاز تقریب کی میزبان بشریٰ انصاری نے فریدہ خانم کی ایک غزل ”عذر آنے میں بھی “ پیش کرکے کیا جس نے تقریب میں سماں باندھ دیا۔ ان کے بعد کنول افتخار اسٹیج پر آئیں اور فیض احمد فیض کی غزل ”یوں سجا چاند “ گاکرحاضرین سے داد وصول کی۔

بشریٰ انصاری نے بینش پرویز کو مدعو کیا جنہوں نے ”سجن لاگی تو ری لگن “ اور ”آج جانے کی ضد نہ کرو “کے ذریعے ملکی موسیقی کی تاریخ کا وہ سنہری دور یاد دلادیا جوصدیوں تک خود اپنی مثال آپ تلاش کرتارہے گا۔

محفل میں فریحہ پرویز نے بھی ”وہ مجھ سے ہوئے ہم کلام ‘، ’گو ذرا سی بات پہ‘ اور ”جھمکا لادے رے چاندی کا ‘ گاکر محفل کو چار چاند لگا دیئے ۔ ان کی سولو پرفارمنس کو بے حد سراہا گیا ۔

معروف غزل گائیک ثریا ملتانیکر کی صاحبزادی راحت ملتانیکر نے فریدہ خانم کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے بطور خاص سدا بہار گانے ”بلے بلے ٹور پنجابن دی “ کے ذریعے سماں باند ھ دیا‘ جس کے بعد بشریٰ انصاری نے فریدہ خانم کی روح میں اُترجانے والی غزل ”کچھ عشق تھا کچھ مجبوری تھی“ پیش کی۔

پاکستان کے ہر دلعزیز نیم کلاسیکل ‘پاپ اور راک گلوکار سجاد علی تالیوں کی گونج میں اسٹیج پر نمودار ہوئے ۔ انہوں نے ”وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا “اور” اک غم کے سوا “ اور فریحہ پرویز کے ہمراہ دوگانا”میں نے پیروں میں پائل تو باندھی نہیں “ گاکر محفل کو عروج پر پہنچا دیا۔

بعد ازاں بشریٰ انصاری نے فریدہ خانم کو اظہار خیال کے لئے مدعو کیا ۔فریدہ خانم نے تمام گلوکاروں کی پرفارمنس کو سراہتے ہوئے کہا کہ سب نے بہت مشکل غزلوں کو بہت اچھے انداز میں گایا ۔

شام کا اختتام فریدہ خانم کی خصوصی پرفارمنس کے ذریعے ہوا ۔اس موقع پر انہوں نے اپنی چند مشہور غزلوں کے مکھڑے بھی گنگنائے ۔ ان کی آواز کے جادو نے لوگوں کو کھڑے ہوکر تالیاں بجانے پر مجبور کردیا اور یہی اس یادگار تقریب کا اختتامی لمحہ تھا۔

XS
SM
MD
LG