رسائی کے لنکس

عافیہ صدیقی کو سزا کے خلاف اپیل واپس لینے کی اجازت


فائل

فائل

جج نے مقدمہ بند کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مقدمہ کی کارروائی جاری بھی رہتی تو بھی قوی امکان تھا کہ وہ عافیہ صدیقی کے خلاف ہی فیصلہ سناتے۔

امریکہ کی ایک عدالت نے امریکی جیل میں قید پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو اپنی سزا کے خلاف دائر اپیل واپس لینے کی اجازت دیدی ہے۔

نیویارک کے علاقے مین ہٹن کی ضلعی عدالت کے جج رچرڈ برمن نے جمعرات کو اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ عافیہ صدیقی نے "کھل کر اور واضح انداز میں" اپنی اپیل سے دستبردار ہونے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

جج نے اپیل کی سماعت سے متعلق مقدمہ بند کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مقدمہ کی کارروائی جاری بھی رہتی تو بھی قوی امکان تھا کہ وہ عافیہ صدیقی کے خلاف ہی فیصلہ سناتے۔

جج برمن نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ عافیہ صدیقی کو جس مقدمے میں سزا سنائی گئی اس میں پانچ قابل وکلا ان کی پیروی کر رہے تھے۔ جج نے اپنے فیصلے میں عافیہ صدیقی سے مزید تفتیش کی اجازت دینے سے بھی انکار کردیا ہے۔

خیال رہے کہ رواں سال مئی میں ایک نئے وکیل نے عافیہ صدیقی کی پیروی کا اعلان کرتے ہوئے انہیں اقدامِ قتل کے الزام میں سنائی جانے والی 86 برس قید کی سزا کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔

تاہم اپیل دائر کیے جانے کے چند ہفتوں بعد عافیہ صدیقی نے جج برمن کو ایک خط تحریر کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ انہیں امریکہ کے عدالتی نظام پر بھروسا نہیں اور اسی لیے وہ اپنی سزا کے خلاف دائر اپیل کا حصہ نہیں بننا چاہتیں۔

عافیہ صدیقی کے خط کے جواب میں گزشتہ ماہ ان کے نئے وکیل رابرٹ بوائل نے اپیل کی سماعت کرنے والے جج کو ایک خط تحریر کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر عافیہ صدیقی کو اپیل سے دستبردار ہونے کی اجازت دیدی گئی تو عام حالات میں انہیں دوبارہ اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کرنے کی اجازت نہیں ملے گی۔

وکیل نے جج سے استدعا کی تھی کہ وہ عافیہ صدیقی کے خط کو نظر انداز کردیں کیوں کہ قومی امکان ہے کہ انہیں اپنی سزا کے خلاف اپیل سے دستبردار ہونے کے نتائج کا اندازہ نہیں ہے۔

امریکی ریاست ٹیکساس کی ایک جیل میں قید عافیہ صدیقی کو 2010ء میں امریکی جیوری نے اقدامِ قتل کا مجرم قرار دیا تھا جس کے بعد انہیں مقدمے کی سماعت کرنےو الی عدالت نے 86 برس قید کی سزا سنائی تھی۔

ان پر الزام تھا کہ انہوں نے افغانستان کے صوبہ غزنی کی ایک جیل میں قید کے دوران امریکی تحقیقاتی ادارے 'ایف بی آئی' کے اہلکاروں کی ایک ٹیم پر اس وقت قاتلانہ حملہ کرنے کی کوشش کی تھی جب وہ ان سے 'القاعدہ' کے ساتھ ان کے مبینہ روابط کی تفتیش کر رہے تھے۔

اس حملے میں کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا تھا البتہ دورانِ تفتیش موجود امریکی فوجیوں کی جوابی فائرنگ سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی پیٹ میں گولی لگنے سے زخمی ہوگئی تھیں۔

ایک دوسری امریکی عدالت نے 2012ء میں مقدمے کی کارروائی غیر شفاف ہونے سے متعلق ڈاکٹر عافیہ کے وکلا کے دعووں اور سزا کے خلاف دائر ان کی اپیل مسترد کرتے ہوئے انہیں سنائی جانے والی سزا برقرار رکھی تھی۔

تین بچوں کی والدہ 42 سالہ عافیہ صدیقی امریکہ کے مشہور ادارے 'میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی)' اور 'برینڈس یونیورسٹی' سے تعلیم یافتہ ہیں اور ان کے مقدمے کو شدت پسند اسلامی گروپ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کی مبینہ زیادتیوں کی ایک مثال کے طور پر اچھالتے رہے ہیں۔

شام، الجزائر، افغانستان اور پاکستان میں سرگرم شدت پسند تنظیمیں اپنی تحویل میں موجود غیر ملکی باشندوں کی رہائی کے عوض ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے مطالبات بھی کرتی رہی ہیں ۔

عراق اور شام میں سرگرم دولتِ اسلامیہ نے بھی مغوی امریکی صحافی جیمز فولی کے بدلے عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا لیکن بعد ازاں شدت پسند تنظیم نے اپنے مطالبات پورے نہ ہونے پر امریکی صحافی کو قتل کردیا تھا۔

XS
SM
MD
LG