رسائی کے لنکس

استاد اشیش خاں نے جگایا پٹنہ میں اپنے فن کا جادو


سرود کے نام ور فن کار استاد آشیش خاں نے گذشتہ ہفتہ پٹنہ میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور وہ رات جو پٹنہ کے سامعین کے لیے دن بن گئی تھی اسے وہ بھول نہیں پاتے ہیں۔

استاد اشیش خاں بین الاقوامی شہرت یافتہ موسیقار ہیں۔ انھیں سرود پر بلا کی مہارت حاصل ہے اور وہ جیسے چاہیں اس کا جادو جگاسکتے ہیں۔ وہ سامعین کو پورے طور پر اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں اور اس وقت تک لیے رہتے ہیں جب تک ان کے راگ فضا میں تیرتے رہتے ہیں۔

انہیں یہ قدرت خاندانی طور پر حاصل ہوئی ہے۔ ان کے دادا استاد علا الدین خاں سرود کے بڑے ماہر تھے آشیش خاں کی پیدائش سنہ 1939میں میہر میں ہوئی تھی اور پانچ سال کی عرس میں ہی آشیش خاں نے ان سے تعلیم حاصل کرنی شروع کر دی تھی صرف تیرہ سال کی عمر میں نئی دہلی میں آل انڈیا ریڈیو کے ایک عوامی پروگرام میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ان کے والد استاد علی اکبر خاں بھی اس فن میں ماہر ہیں۔

ایک طرح سے آشیش خاں اپنے خاندانی فن کی تیسری نسل ہیں۔ وہ پہلی بار پٹنہ تشریف لائے تھے اور انہیں یہاں کے ایک ادارے کالا ترئی نے مدعو کیا تھا۔ ان کے مظاہرے میں ہزاروں افراد موجود تھے جو کان لگا کر سرود کو سنتے رہے۔

استاد اشیش خاں کا تعلق مدھیہ پردیش کے مہیر گھرانے سے ہے۔ جس کی بنیاد خود ان کے دادا بابا علاؤ الدین خاں نے ڈالی تھی۔اس کے ارکان میں الاپ، جوگ اور جھلا شامل ہیں۔ اس کے راگوں کی ترتیب بھی ان کے دادا نے ہی دی تھی اور پھر اسے مقبول بنایا تھا۔

استاد اشیش خاں اب امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا میں رہتے ہیں اور وہاں اپنے فن کی تعلیم طلبا کو دیتے ہیں۔ انہوں نے انڈو امریکن میوزیکل گروپ ’شانتی‘ کی تشکیل کی ہے۔ انہوں نے بیٹلز کے ساتھ ونڈر وال بھی پیش کیا تھا۔ ان کے علاوہ ان کے ہمراہ جارج ہریسن نے بھی ’انر وائس‘ کی تشکیل کی تھی۔ اشیش خاں نے انڈو جاز گروپ شرینگار کی بھی تشکیل کی ہے۔

پٹنہ میں استاد اشیش خاں نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے فن کو امن کے لیے وقف کیا ہے اور اس کا مقصد صرف عوام کی ذہنی تفریح ہی نہیں بلکہ تعمیری ذہن کی تشکیل بھی ہے۔

XS
SM
MD
LG