رسائی کے لنکس

اب کر کے دِکھا!!

اب کر کے دِکھا!!
محمّد عاطف - وی او اے نیوز - واشنگٹں

پیپلز پارٹی اور اتحادی جماعتوں کی کوششوں سے پارلیمان سے منظوری کے بعد توہینِ عدالت کا ترمیمی بل جناب صدر آصف علی زرداری کے دستخط کے بعد اب قانون بن کر نافذ ہوچکا ہے۔

گو کہ اس بل کو عدالتِ عظمیٰ میں چیلنج کر دیا گیا ہے اور اب عدالت ہی اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ کیا ایسا کوئی قانون آئین کا حصہ بن سکتا ہے یا نہیں، لیکن جمہوری روایات اور اقدار کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے کسی منتخب اسمبلی سے ایسے کسی قانون کی منظوری - جس کے ذریعے صدر، وزیرِ اعظم، تمام وزرائے اعلٰی اور گورنروں سمیت وفاقی و صوبائی وزرا توہینِ عدالت کے قانون سے مستثنیٰ قرار دے دیا جائے - جمہوریت، قانون اور انصاف سے مذاق لگتا ہے۔

parliament-Pakistan-islamabad

parliament-Pakistan-islamabad



اپوزیشن کی سخت مخالفت اور احتجاج کے باوجود یہ مسودہ قانون پارلیمان کے دونوں ایوانوں - قومی اسمبلی اور سینیٹ - سے عجلت میں منظور کروایا گیا۔ بظاہر اس عجلت کی وجہ راجہ پرویز اشرف کی وزارتِ عظمی کا تحفظ تھا جنہیں 12 جولائی کو سپریم کورٹ کو یہ بتانا تھا کہ آیا وہ صدر زرداری کے خلاف مقدمات کھولنے کے لیے سوئس حکام کو خط لکھیں گے یا نہیں۔ گو کہ اب راجہ صاحب کو 25 جولائی تک کی مہلت مل گئی ہے لیکن جواب تو انہیں پھر بھی دینا ہے۔ اب اگر ان کا جواب ہاں میں ہوا تو پارٹی کے تمام عہدوں اور رکنیت سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے اور مستقبل وہی ہوگا جو بابر اعوان کا ہوا۔ اگر نہ کی تو وزارتِ عظمیٰ سے بھی جائیں گے، قومی اسمبلی کی رکنیت سے بھی اور شاید اگلے پانچ سال تک عام انتخابات بھی نہ لڑ سکیں گے۔

(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)



آخر اور کتنے لوگ صدر زرداری کو بچانے کی خاطر سولی پر چڑھنے کو تیار ہوں گے؟ اسی لیے پاکستان پیپلز پارٹی نے یہ قانون بنا کر سپریم کورٹ کو پیغام دیا ہے کہ "اب کر کے دکھا!!"۔


______________________________________________________________________
The above blog post does not represent the point of view of Voice of America nor the United States Government

XS
SM
MD
LG