رسائی کے لنکس

رپورٹ جلد مکمل کر لی جائے گی، ایبٹ آباد کمیشن


رپورٹ جلد مکمل کر لی جائے گی، ایبٹ آباد کمیشن

رپورٹ جلد مکمل کر لی جائے گی، ایبٹ آباد کمیشن

جاوید اقبال نے کہا کہ اُن کا کمیشن اپنی رپورٹ میں غفلت کے مرتکب ہونے والے اداروں اور عہدیداروں کی نشاندہی کرنے کے علاوہ سفارشات بھی حکومت کو پیش کر ے گا تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات رونما نا ہو سکیں۔

القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی اور 2 مئی کو خفیہ امریکی آپریشن میں اس کی ہلاکت کے اسباب و واقعات کا جائزہ لینے کے لیے قائم اعلیٰ سطحی کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا ہے کہ اب تک 100 سے زائد افراد کے بیانات قلمبند کیے گئے ہیں اور آئندہ چند ہفتوں میں رپورٹ تیار کر لی جائے گی۔

جمعرات کو پانچ رکنی کمیشن کے سربراہ جاوید اقبال نے دیگر ممبران کے ہمراہ اسلام آباد میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پانچ ماہ قبل ان کے کمیشن نے اپنا کام شروع کیا تھا اور اب تک جن افراد سے شواہد اکٹھے کیے گئے ہیں ان میں فوج، فضائیہ، پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کے عہدیداروں کے علاوہ اسامہ بن لادن کے وہ اہل خانہ بھی شامل ہیں جنہیں امریکی کمانڈو آپریشن کے بعد ایبٹ آباد میں القاعدہ کے سربراہ کی پناہ گاہ سے پاکستانی حکام نے اپنی تحویل میں لیا تھا۔

رپورٹ جلد مکمل کر لی جائے گی، ایبٹ آباد کمیشن

رپورٹ جلد مکمل کر لی جائے گی، ایبٹ آباد کمیشن


جاوید اقبال نے کہا کہ کمیشن نے واشنگٹن میں سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی کو بھی طلب کر کے ان سے یہ وضاحت بھی مانگ رکھی ہے کہ ان کے دور میں جن امریکی شہریوں کو ویزے جاری کیے گئے وہ کون تھے۔ ’’وہ ویزے جو واشنگٹن سفارت خانے سے جاری کیے گئے وہ کس قانون کے تحت (جاری) ہوئے ہیں اور کیا ان کی باقاعدہ جانچ پڑتال کی گئی۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ حالیہ ’’ممیو گیٹ‘‘معاملے کا تعلق بھی دو مئی کے واقعہ سے بنتا ہے’’کمیشن جس حد تک ضروری ہوا، اسامہ بن لادن (کے معاملے) کو سامنے رکھتے ہوئے اور ممیو گیٹ میں ان کے حوالہ جات کے پیش نظر اس ایشو کی طرف توجہ دے گا۔‘‘

پاکستانی نژاد امریکی شہری منصور اعجاز کا الزام ہے کہ اُنھوں نے مئی میں حسین حقانی کے کہنے پر صدر آصف علی زرداری سے منسوب ایک خفیہ مراسلہ یا ’’میمو‘‘ امریکی حکام تک پہنچایا تھا۔ اس متنازع مکتوب میں کہا گیا تھا کہ دو مئی کو ایبٹ آباد میں القاعدہ کے مفرور رہنما اسامہ بن لادن کے خلاف کی گئی یک طرفہ امریکی کارروائی کے تناظر میں پاکستانی فوج ملک کی جمہوری حکومت کا تختہ اُلٹ سکتی ہے اس لیے واشنگٹن فوج اور اس کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہان کی برطرفی میں مدد فراہم کرے۔

حسین حقانی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور تحقیقات میں معاونت کی خاطر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی ہدایت پر اپنے عہدے سے مستعفی ہو چکے ہیں۔

کمیشن کے سربراہ نے بتایا کہ اُنھوں نے دیگر چار ممبران کے ہمراہ ایبٹ آباد کے علاقے بلال ٹاؤن میں واقع اس گھر کا دورہ بھی کیا جہاں اسامہ بن لادن مقیم تھا جب کہ کالا ڈھاکا کے علاقے طورغر میں ان مقامات پر جا کر شواہد بھی اکٹھے کیے جن کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ وہاں امریکی فورسز کے ہیلی کاپٹر رات کی تاریکی میں اترے تھے۔

جاوید اقبال نے کہا کہ اُن کا کمیشن اپنی رپورٹ میں غفلت کے مرتکب ہونے والے اداروں اور عہدیداروں کی نشاندہی کرنے کے علاوہ سفارشات بھی حکومت کو پیش کر ے گا تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات رونما نا ہو سکیں۔

اُنھوں نے کہا کہ کمیشن کی رپورٹ مکمل ہونے کے بعد حکومت سے درخواست بھی کی جائے گی کہ اسے شائع کیا جائے تاکہ عوام کو بھی حقائق معلوم ہو سکیں۔

XS
SM
MD
LG