رسائی کے لنکس

ایبٹ آباد آپریشن پر سیاسی جماعتوں کی حکمت عملی ، کب ،کس نے اور کیا کیا


ایبٹ آباد آپریشن پر سیاسی جماعتوں کی حکمت عملی ، کب ،کس نے اور کیا کیا

ایبٹ آباد آپریشن پر سیاسی جماعتوں کی حکمت عملی ، کب ،کس نے اور کیا کیا

دو مئی کو ایبٹ آباد آپریشن کے بعد پاکستان کی حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے انداز سے اپنی اپنی حکمت عملی اپناکر اس پر سیاست کی نئی داغ بیل ڈالی ہے۔ پیپلزپارٹی ،اس کی اتحادی جماعتوں اور اپوزیشن کی جانب سے فوری طور پراس واقعہ پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا گیا تھاجس کے باعث عوام میں بے چینی پھیلی ۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں سب سے زیادہ ذمہ داری پیپلزپارٹی پر عائد ہوتی تھی تاہم وہ ابہام کا شکار رہی اور تین دن بعد میڈیا کا سامنا کیا جبکہ مسلم لیگ ن نے پانچ دن بعد لب کشائی کی اور متحدہ قومی موومنٹ نے نو دن بعداس حوالے سے گیندعوام کے کورٹ میں ڈالی جبکہ حیرت انگیز طور پر پارلیمان میں موجود مسلم لیگ ق ، عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر چھوٹی جماعتوں کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔

پیپلزپارٹی اس آپریشن سے متعلق شروع ہی سے ابہام کا شکار نظر آئی ۔ آپریشن کے فوری بعد وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اسامہ کی ہلاکت کو عظیم فتح قرار دیا جبکہ اگلے روز صدر آصف علی زرداری نے ایک امریکی اخبار میں لکھے گئے مضمون میں کہا کہ اگر چہ پاکستان اس آپریشن میں شریک نہیں تھا لیکن امریکا ہماری مدد سے ہی اسامہ تک پہنچا ، اسامہ بن لادن کی ہلاکت پاک امریکا تعاون کا نتیجہ ہے۔

آپریشن کے دو روز بعد وزیر اعظم نے اسامہ کی پاکستان میں موجودگی کو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کی خفیہ ایجنسیوں کی ناکامی قرار دیا ۔اسی روزسیکریٹری خارجہ کا پہلی بار اسامہ کی ہلاکت سے متعلق غیر ملکی خبررساں ادارے کے ذریعے بیان منظر عام پر آیا جس میں انہوں نے انکشاف کیا کہ اسامہ کے ٹھکانے سے متعلق معلومات دو سال قبل امریکا کودی تھیں ۔ اسی روز ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے ایک بیان جاری کیا جس میں صورتحال پر گول میز کانفرنس بلانے کا مطالبہ کیا گیا۔

تین دن تک ملک کی قیادت کا کوئی بھی رہنما میڈیا کے سامنے آ کر عوام کو اعتماد میں لینے میں ناکام رہا۔ پانچ تاریخ کو پہلی مرتبہ سیکریٹری خارجہ سلمان بشیر نے ایک طویل پریس کانفرنس کی جس میں وہ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی عظیم فتح کے بیان کو بھول گئے۔ انہوں نے آپریشن کو ملک کی خود مختاری پر حملہ قرار دیا۔ عوامی مایوسی کو محسوس کرتے ہوئے سلمان بشیر نے کہا کہ قوم کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ، مسلح افواج ہر قسم کے حالات سے نمٹنے کے لئے تیار ہیں اور آئندہ ایسی کارروائی برداشت نہیں کی جائے گی۔

اسی روز کور کمانڈر کانفرنس بھی منعقد ہوئی اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بھی ایبٹ آباد آپریشن جیسی کارروائی کا بھر پور جواب دینے کا عزم ظاہر کیا ۔

پانچ دن تک خاموش رہنے کے بعد قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ ن کے رہنما چوہدری نثار پہلی بار میڈیا کے سامنے آئے اور صدر و وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ایبٹ آبادآپریشن کو ملک کی خود مختاری کے خلاف قرار دیا اور خفیہ ایجنسیوں پر سخت تنقید کی ۔

سات دن بعد یعنی9 مئی کو وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اسامہ سے متعلق قوم کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی اور قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کے دوران لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال کی سربراہی میں اس واقعہ کی تحقیقات کے لئے کمیٹی تشکیل دی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان میں اسامہ کو مدعو نہیں کیا تھا ، پاکستان القاعدہ کی جائے پیدائش نہیں۔ اس موقع پر انہوں نے آئی ایس آئی کی تعریف بھی کی اور کہا کہ القاعدہ کے زیادہ تر دہشت گردوں کو اس نے گرفتار کیا ہے۔

اسی روز وزیر اعظم کی تقریر کے جواب میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم قوم کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے بعض سوالات کا جواب نہیں دیا جن میں یہ سوال بھی شامل ہے کہ کیا یہ آپریشن کسی معاہدے کے تحت ہوا تھا؟

اسی روز آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بھی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ قوم کو منتخب نمائندوں کے ذریعے اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے۔ ماہرین کے مطابق آرمی چیف بھی جانتے تھے کہ عوامی نمائندے تاحال قوم کو اعتماد میں نہیں لے سکے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی تقریر کے دوران پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلانے کی تجویز دی۔

نودن بعد مسلم لیگ ن کے دوروزہ اجلاس کے بعد گیارہ مئی کو نواز شریف ایبٹ آباد واقعہ کے بعد پہلی بار میڈیا کے سامنے آئے اور حکومت سے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر نواز شریف نے خفیہ اداروں پر بھی سخت تنقید کی ۔

اسی روز متحدہ قومی موومنٹ نے بھی اس حوالے سے ملک بھر میں ریفرنڈم کا اعلان کر تے ہوئے ستر ہ نکاتی سوالنامہ جاری کیااور عوام سے رائے طلب کی جس کا مطلب ہے کہ وہ عوامی رائے کے بعد ایبٹ آباد واقعہ پر اپنا رد عمل ظاہر کرے گی ۔

اگلے ہی روزوزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ آئی ایس آئی اور سی آئی میں تعاون ختم ہو چکا ۔ امریکا کی حمایت کی تو ہماری حکومت جا سکتی ہے ، حیران ہوں کہ امریکا نے یکطر فہ آپریشن کیوں کیا؟

ایبٹ آباد واقعہ کے گیارہ روز بعد پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس طلب کیا گیا ۔ اجلاس میں پاکستانی خفیہ ایجنسی کے سربراہ ڈی جی آئی ایس آئی نے تسلیم کیا ہے کہ اسامہ کی ایبٹ آباد میں موجودگی اور امریکی آپریشن کا معلوم نہ ہونا ایک بڑی غلطی ہے جس پر وہ مستعفی ہونے کو تیار ہیں ۔ اس کے علاوہ پاک فضائیہ کے سربراہ راؤ قمر سلیمان نے بھی اپنی بریفنگ میں کہا کہ ریڈار میں امریکی ہیلی کاپٹر نظر نہیں آئے۔

XS
SM
MD
LG