رسائی کے لنکس

ایبٹ آباد آپریشن: تحقیقاتی کمیشن کا پہلا اجلاس پانچ جولائی کو


ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی پناہ گاہ

ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی پناہ گاہ

دومئی کو ایبٹ آباد کے علاقے بلا ل ٹاؤن میں القاعدہ کے رہنما سربراہ اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی فورسز کے ایک خفیہ آپریشن کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے سینئر جج جاوید اقبال کی سربراہی میں بنائے گئے کمیشن کا پہلا اجلاس منگل کو اسلام آباد میں طلب کیا گیا ہے ۔

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی طرف سے تشکیل دیئے گئے اس کمیشن میں جسٹس جاوید اقبال کے علاوہ تین دیگر اراکین میں لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ندیم احمد، امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر اشرف جہانگیر قاضی اور پولیس کے سابق آئی جی عباس خان شامل ہیں ۔

کابینہ ڈویژن کی سیکرٹری نرگس سیٹھی کو اس تحقیقاتی کمیشن کی سیکرٹری مقرر کیا گیا ہے ۔ یہ اعلیٰ سطحی کمیشن اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کے مکمل حقائق جاننے کے علاوہ ، اُن حالات کی بھی چھان بین بھی کر ے گا جن میں امریکی فورسز نے ایبٹ آباد میں دو مئی کو کارروائی کی تھی۔

سرکاری بیان کے مطابق کمیشن امریکی فورسز کی کارروائی میں متعلقہ پاکستانی حکام کی طرف سے ممکنہ غفلت کی نوعیت ، حالات اور پس منظر کا تعین کر کے اپنی سفارشات مرتب کرے گا۔ تاہم اس کمیشن کو اپناکام مکمل کرنے کے لیے کوئی ڈید لائن نہیں دی گئی ہے ۔

ایبٹ آباد واقعہ کے بعد پاکستان کی طرف سے شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا تھا اور مئی کے وسط میں پارلیمان کے ایک بندکمرے میں ہونے والے مشترکہ اجلاس میں امریکی فورسز کی کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایک متفقہ قرارداد میں امریکہ سے تعلقات پر نظرثانی کرنے اور اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے آزاد کمیشن بنانے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔

فوج کی ایک ٹیم بھی لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال کی سربراہی میں ایبٹ آباد واقعہ کی تحقیقات کر رہی ہے جو اپنی رپورٹ فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو پیش کرے گی۔

XS
SM
MD
LG