رسائی کے لنکس

دو مئی ایبٹ آباد آپریشن : دو عینی شاہدین

  • شہناز نفیس

’’پاکستان کے اِس نسبتاً پُرامن علاقے میں اسامہ بن لادن کو ڈھونڈ نکالنا اور اُسے ہلاک کرنا ناصرف اُس شہر کے لوگوں بلکہ تمام پاکستانیوں کے لیے حیرت سے کم نہیں تھا‘‘

دومئی 2011ء کوامریکی اسپیشل فورسزنےایبٹ آباد میں خصوصی کارروائی کے ذریعے القاعدہ کے لیڈر، اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا۔پاکستان کے اِس نسبتاً پُرامن علاقے میں اسامہ بن لادن کو ڈھونڈ نکالنا اور اُسے ہلاک کرنا ناصرف اُس شہر کے لوگوں بلکہ تمام پاکستانیوں کے لیے حیرت سے کم نہیں تھا۔

اِس کارروائی کے دو عینی شاہدین، احسان داور اور سیف اللہ نے بدھ کے روز’وائس آف امریکہ‘ کی اردو سروس سےانٹرویو میں رات کے وقت کیے گئے اِس کمانڈو آپریشن کے بارے میں سوالات کے جواب دیے۔

احسان داور بتاتے ہیں کہ، ایک بجے رات کا وقت تھا۔ ’’ میں اُس وقت جاگ رہا تھا۔ ایسے میں، میں نے ہیلی کاپٹروں کو آتے جاتے دیکھا۔۔۔ یہ سارا معاملہ غیر معمولی نوعیت کا لگ رہا تھا۔ کچھ معلوم نہیں ہو رہا تھا کہ ماجرا کیا ہے۔ ۔۔ ‘‘

’’پھر یکایک ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ میں فوراً گھر کے اوپر چڑھ گیا، دیکھا تو ایک طرف شعلے نظر آرہے تھےاور چیخ و پکار بھی تھی‘‘۔

’’ اور لوگ بھی بیدار ہوچکے تھے۔۔۔ میں بھی اُسی علاقے میں پہنچا جہاںٕ یہ واقعہ ہوا تھا۔ لیکن مجھے اندازاہ نہیں تھا کہ یہ کیا ہورہا ہے۔۔۔پھر پتا چلا کہ وہاں پر ایک ہیلی کاپٹر گرا ہے۔ تاہم، سکیورٹی فورسز نے اُس علاقے کو گھیرے میں لے رکھا تھا۔۔ وہاں سے کسی گاڑی کو آنے جانے کے اجازت نہیں تھی۔۔۔‘‘

تفصیل کے لیے آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG