رسائی کے لنکس

اسامہ کی پناہ گاہ ، بدستور توجہ کا مرکز


اسامہ کی پناہ گاہ ، بدستور توجہ کا مرکز

اسامہ کی پناہ گاہ ، بدستور توجہ کا مرکز

بلا ل ٹاؤن میں اسامہ بن لادن کی پناہ گاہ اب ایک سیاحتی مرکز کا منظر پیش کر رہی ہے ۔ دن کے مخصوص اوقات میں یہاں تعینات پولیس اس گھر کی طرف جانے والے راستے کو آمدو رفت کے لیے کھول دیتی ہے اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے علاوہ مقامی مردوخواتین ، بچے اور بوڑھے تیزی سے اس مکان کی چار دیواری کے گرد گھوم کر عمارت کے سیل بند دروازوں سے تانک جھانک کرتے دکھائی دیتے ہیں شاید یہ دیکھنے کے لیے کہ اس گھر کے اندر کا کیا منظر ہے جہاں دنیا کا مطلوب ترین شخص چھپاہوا تھا ۔

ایبٹ آباد میں فوج کی مرکزی تربیت گاہ کاکول اکیڈ می سے چند کلومیٹر دوربلال ٹاؤن میں واقع وہ قلعہ نما گھر میڈیا اور مقامی آبادی کی مسلسل توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں دو مئی کو امریکی اسپیشل فورسز نے کارروائی کرکے القاعدہ کے روپوش سربراہ اسامہ بن لادن کو ہلاک کر دیا تھا۔

جمعرات کو اس مخصوص انداز میں تعمیر کیے گئے گھر کے قریب جا کر محسوس ہوا کہ کوئی بھی مفرور شخص یہاں آکر باآسانی حکام کی نظروں سے چھپ سکتا ہے کیوں کہ آس پاس رہنے والوں سے گفتگو کر کے یہ محسوس ہوا کہ یہاں زیادہ تر افراد ملک کے دوسرے حصوں سے آکرآباد ہوئے ہیں جن کا ایک دوسرے سے میل ملاپ نہ ہونے کے برابر ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس گھر کے مکینوں کے بارے میں کسی کو جاننے کا تجسس نہیں تھا۔

لیکن مخصوص انداز میں تعمیر کیا گیا یہ قلعہ نما گھر پڑوس میں رہنے والوں کی توجہ کا مرکز ضرور تھا۔ گھر کے قریب موجود ایک نوجوان سیف اللہ نے وائس آف امریکہ کو بتایا ” ہمیں یہ بھی فکرہے اس علاقے میں ہماری پراپرٹی(زمین)کا کیابنے گا اُس کی قد رمیں کمی آجائے گی یا کیا ہوگا۔ اس کے علاوہ یہ بھی خدشہ ہے کہ علاقے کے امن پر اس واقعہ کاکیا اثر پڑے گا اور کہیں دوبارہ ایسی کوئی کارروائی نہ ہوجائے“۔
اسامہ کی پناہ گاہ ، بدستور توجہ کا مرکز

اسامہ کی پناہ گاہ ، بدستور توجہ کا مرکز

اسامہ بن لادن کی اس قیام گا ہ سے کچھ ہی فاصلے پر رہائش پذیر حسنات احمد نے بتایا ”اس گھر کو دیکھ کر شکوک وشہبات جنم لیتے تھے کیوں کہ یہاں مقیم افراد کا باہر آنا جانا نہیں تھااور نہ ہی وہ لوگو ں سے ملتے جلتے تھے۔ یہاں اسامہ تھا یا نہیں اس کا مجھے نہیں پتہ، لیکن کوئی بڑا لیڈر ضرور تھا“۔

بلال ٹاؤن میں بسنے والے افراد کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایبٹ آباد ایک سیاحتی مرکز ہے اور مقامی آبادی کی اکثریت کے روزگار کا دارومداد بھی سیاحت پر ہے بن لادن کی اس علاقے میں موجودگی اور پھر امریکی فورسز کا کارروائی کر کے اُسے ہلاک کردینا یقینا اس شہر کے باسیوں کے لیے ایک تشویشنا ک امر ہے۔

بلال ٹاؤن کے رہائشی نصیر خان نے بتایا ”ایبٹ آباد دہشت گرد حملوں سے محفوظ تھا اب اس واقعہ کے بعد سیاح اس علاقے کا رخ نہیں کریں گے اور آنے والے دنوں میں اس علاقے کو بہت نقصان ہوگا“۔
اسامہ کی پناہ گاہ ، بدستور توجہ کا مرکز

اسامہ کی پناہ گاہ ، بدستور توجہ کا مرکز

ایبٹ آباد کے مری روڈ پر واقع کپڑے کی دوکان کے مالک محمد افضل خان نے کہا کہ اسامہ بن لادن کی پناہ گاہ پر امریکی فورسز کے حملے کے بعد بازاروں میں گاہک نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ”اس موسم میں یہاں (ایبٹ آباد) میں بہت سے لوگ آتے تھے لیکن پیر کے روز سے بازاروں میں خریداری کے لیے کوئی نہیں آرہا حتیٰ کہ مقامی لوگ بھی ڈر گئے ہیں وہ بھی مارکیٹوں کا رخ نہیں کر رہے ہیں“۔

بن لادن کی ہلاکت کے واقعہ نے عمومی طور پر یہاں ایبٹ آبا دکی آبادی کو ایک عجیب سی پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے اور معلومات کے فقدان کی وجہ سے اکثر لوگ تاحال شکوک و شہبات کا اظہار کر رہے ہیں۔

اسامہ بن لادن کی قیام گاہ کے بارے میں نصیر خان نے بتایا ”اس گھر میں کسی کے آنے کا پتہ چلتا تھا نا جانے کا، لیکن اس سے بڑھ کر ہمارے لیے یہ بات تشویشنا ک ہے کہ اُن کے جہاز (امریکی ہیلی کاپٹر) آئے اور پاکستان کے ریڈار نظام منجمد ہو گئے۔ ہم تو دنیا کا ساتواں جوہری ملک ہیں کل کو اگر ہماری ایٹمی تنصیبات پرکوئی اس طرح کا حملہ کر ے اور ہمارے ریڈار سسٹم (Jam)کر دے ، تو ہماری ملکی سالمیت کی کیا ضمانت ہے ۔ ہمارے اداروں کو چاہیئے کہ وہ عوام کو اس حوالے سے اعتماد میں لیں اور پاکستان کی خود مختاری کو یقینی بنائیں“۔
اسامہ کی پناہ گاہ کے باہر ایک خاتون اپنی بچی کی تصویر بنا رہی ہے

اسامہ کی پناہ گاہ کے باہر ایک خاتون اپنی بچی کی تصویر بنا رہی ہے

بلا ل ٹاؤن میں اسامہ بن لادن کی پناہ گاہ اب ایک سیاحتی مرکز کا منظر پیش کر رہی ہے ۔ دن کے مخصوص اوقات میں یہاں تعینات پولیس اس گھر کی طرف جانے والے راستے کو آمدو رفت کے لیے کھول دیتی ہے اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے علاوہ مقامی مردوخواتین ، بچے اور بوڑھے تیزی سے اس مکان کی چار دیواری کے گرد گھوم کر عمارت کے سیل بند دروازوں سے تانک جھانک کرتے دکھائی دیتے ہیں شاید یہ دیکھنے کے لیے کہ اس گھر کے اندر کا کیا منظر ہے جہاں دنیا کا مطلوب ترین شخص چھپاہوا تھا ۔

XS
SM
MD
LG