رسائی کے لنکس

افغانستان میں گذشتہ سال ہونے والے صدارتی انتخابات کی مبینہ غیر شفافیت ایک عرصے تک دنیا بھر کے میڈیا کا موضوع بنی رہی۔ ان انتخابات میں ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ ، صدر کرزئی کے مدمقابل تھے مگر انہوں نے ووٹنگ سے چھ روز پہلے احتجاجاً اپنا نام واپس لے لیا تھا۔ان دنوں وہ امریکہ آئے ہوئے ہیں اور انہیں توقع ہے کہ ان کے اس دورے سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بہتر بنانے میں مددملے گی۔

گذشتہ برس افغانستان میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کی وجہ سے انتخابات سے چھ روز قبل دستبردار ہونے والے صدارتی امیدوار ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے ایک ایسے وقت میں امریکہ کا دورہ کیا جب چند ہی روز قبل افغان صدر حامد کرزئی کو واشنگٹن میں کھلے دل سے خوش آمدید کہا گیا گو کہ گذشتہ برس افغان صدارتی انتخابات میں ہونے والی دھاندلی کے بعد مبصرین صدر کرزئی کے واشنگٹن میں استقبال کو بعید از قیاس ٹھہرا رہے تھے۔
ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے اپنے دورہ ِ امریکہ کو افغانستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کی ایک کوشش قرار دیا اور کہا کہ افغانستان میں قیام ِ امن عالمی برادری کی مدد کے بغیر نا ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال ایک گڈ مڈ سی تصویر پیش کر رہی ہے جس کی وجہ سے افغانستان کی جمہوریت کے لیے گذشتہ چند برسوں میں اٹھائے گئے چند اچھے اقدامات بھی خطرے میں دکھائی دیتے ہیں۔ لہذا اس گھمبیر صورت ِ حال میں ہمیں بہترین سیاسی اقدامات کی ضرورت ہے اور اس ضمن میں عالمی برادری کا کردار افغانستان کے لیے اہم ہوگا۔ جبکہ میری نظر میں افغانستان کے مسائل کے حوالے سے افغانستان اور عالمی برادری کا کسی نکتے پر متفق نہ ہونا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

11 ستمبر کے واقعات کے بعد امریکہ کی طرف سے ان میں طالبان کے ملوث ہونے کے الزامات کے بعد افغانستان میں طالبان کے خلاف شروع کی جانے والی جنگ کو آٹھ برس سے زیادہ گزر چکا ہے۔ اس عرصے میں افغانستان کو بہت سے مسائل سے گزرنا پڑا جن میں افغان عوام کو درپیش مشکلات کے ساتھ ساتھ افغانستان میں جاری سیاسی عمل کو ٹھیس پہنچنا بھی شامل ہے۔ جسے ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے مطابق اب پٹری پر واپس لانے کی کاوشیں کی جا رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ افغانستان کے عوام کے لیے اس خطے میں امن بہت ضروری ہے۔ اور ہمیں امن کی کوششوں کو پٹری سے اترنے نہیں دینا چاہیے مگر اس کے ساتھ ساتھ سیاسی اور جمہوری عمل کو بچانا بھی ضروری ہے۔ یہ کہنا مناسب نہیں ہوگا کہ افغانستان میں جمہوریت نہیں چل سکتی۔ ہمیں اس سے اور دہشت گردی سے نمٹنا ہوگا۔ اگر ہم نے انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا تو یہ جمہوریت اور وسائل کو ضائع کرنے کے مترادف ہوگا۔ مجھے امید ہے کہ اس مشکل وقت میں ہر کوئی اپنی ذمہ داری نبھائے گا۔

دہشت گردی ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا سامنا اس وقت نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان کو بھی روزمرہ کی بنیاد پر ہے۔ مبصرین کے مطابق اس مسئلے سے نمٹے بغیر خطے میں امن کے قیام کی کاوشیں بے کار اور بے معنی لگتی ہیں۔ ڈاکٹر عبدالله عبدالله کا کہنا ہے کہ بظاہر افغان اور پاکستان حکومت کے درمیان تعلقات خیرسگالی پر مبنی ہیں مگر دہشت گردی سے لڑنے کے لیے پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک کو ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرے نزدیک دونوں حکومتوں کے درمیان اچھے تعلقات ہیں۔ مگر ہمارے خطے کے لیے اہم سوال یہ ہے کہ کوئی اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ دہشت گردی خارجہ پالیسی کے نفاذ کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ ایک تشویشناک امر ہے اور میرے خیال میں سب نے ماضی سے سبق سیکھا ہیں۔ آپ پاکستان کو دیکھیں جہاں ہر دوسرے روزطالبان کی کارروائیوں سے بہت سی انسانی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ میرے خیال میں پاکستان نے اچھی کاوشیں کی ہیں۔ دہشت گردی جو ہمارے خطے کے لیے باہمی خطرہ ہے سے نمٹ کر ہی ہمارے خطے کے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔

ڈاکٹر عبدالله عبدالله کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امن کے قیام کے بغیر خطے میں عدم استحکام کی صورت ِ حال اور افغان عوام کے حالات میں تبدیلی لانا ممکن نہیں

XS
SM
MD
LG