رسائی کے لنکس

انتقال کے بعد انہیں کراچی کے ساحل پر واقع ایک پہاڑی میں سپرد خاک کردیا گیا۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں آج آپ کا مزار واقع ہے۔ عرس کی تقریبات کا آغاز مزار کے غسل سے کیا جاتا ہے اور غسل کے لئے گلاب، عطر، مشک اور زعفران استعمال کی جاتی ہے

صوفی بزرگ، عبداللہ شاہ غازی کا تین روزہ عرس کراچی میں شروع ہوگیا ہے جس میں سندھ سمیت ملک بھر سے آنے والے ہزاروں زائرین شریک ہیں۔

پیر کو عرس کا پہلا روز تھا۔ عرس کا افتتاح گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔

عرس کے موقع پر، مختلف تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے جن میں دھمال، محفل سماع اور لنگر قابل ذکر ہیں۔ یہ سید ابو محمد عبداللہ المعروف عبداللہ شاہ غازی کا 1285واں سالانہ عرس ہے جو 7 اکتوبر تک جاری رہے گا۔

عرس کے سبب مزار کی سیکورٹی انتہائی سخت کردی گئی ہے اور بلا جامع تلاشی کوئی بھی اندر داخل نہیں ہو سکتا۔

آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی کا کہنا ہے کہ پولیس کو عرس کے دوران سکیورٹی کے حوالے سے غیر معمولی اقدامات کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں اور اس سلسلے میں کوئی غفلت نہیں برتی جائے گی۔

آئی جی سندھ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک بھر سے آنے والے زائرین کو سکیورٹی فراہم کرنے کیلئے پولیس اور رینجرز کے اہلکار بڑی تعداد میں تعینات کئے گئے ہیں جبکہ زائرین کیلئے فری میڈیکل کیمپ اور سبیل کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔

عبداللہ شاہ غازی سعودی عرب کے شہر مدینہ میں پیدا ہوئے تھے۔ یہ ہجری تاریخ کا 98 واں سال تھا۔ آپ نے 138 ہجری میں تبلیغ اسلام کی غرض سے سندھ میں قیام فرمایا تھا۔ تاہم قیام کے دوران ہی 151 ہجری کو انہیں شہید کردیا گیا۔

انتقال کے بعد، انہیں کراچی کے ساحل پر واقع ایک پہاڑی میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں آج آپ کا مزار واقع ہے۔

اسی مزار پر ہر سال ان کا عرس منایا جاتا ہے۔ عرس کی تقریبات کا آغاز مزار کے غسل سے کیا جاتا ہے اور غسل کے لئے گلاب، عطر، مشک اور زعفران استعمال کی جاتی ہے۔

XS
SM
MD
LG