رسائی کے لنکس

بے چینی، تجسس اور گھبراہٹ اُس وقت عروج پر پہنچ گئی جب میں امریکہ کے ہوائی اڈے پر مختلف رنگوں کے پاسپورٹ ہاتھ میں لیئے سینکڑوں افراد کے ساتھ قطار میں کھڑا تھا


یہ میرے امریکہ آنے سے ایک ہفتہ پہلے کی بات ہے۔ مجھے ایک دوست نے گھر سے مظفرآباد جاتےہوئے اپنی کار میں لفٹ دی اور اگلی نشست پر براجمان اپنے رشتہ دار کو میرا تعارف کروایا، جس پر محترم رشتہ دار نے اپنے سر کو اثبات میں ہلانے پر ہی اکتفا کرتےہوئے اپنی نظر سامنے جمائے رکھی جیسے گاڑی وہ خود ہی چلا رہے ہوں۔

نصف کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد میر ے دوست نے میرے تعارف کا سلسلہ یہ کہہ کر دوبارہ شروع کر دیا کہ عبدل اگلے ہفتہ امریکہ جا رہا ہے۔ اگلے ہی لمحے فرنٹ سیٹ پر بیٹھے رشتہ دارتیزی سےمیری طرف مڑے اور نہ صرف گرمجوشی سے ہاتھ ملاتے ہوئے مبارکباد دی، بلکہ گفتگو کا سلسلہ بھی شروع کر دیا جس کا محور امریکہ ہی تھا۔

میں اس سوچ میں گم ہو گیا کہ موصوف نے ہاتھ عبدل سے ملایا ہے یا اُس امریکی ویزے سے جو میرے پاسپورٹ پر لگ چکا تھا ۔ پاکستان جیسے ترقی پزیر ممالک کے شہریوں بالخصوص طلباء کو امریکہ جانے کی خواہش تو رہتی ہی ہے، لیکن اس طرح کے رویے یقیناً اس خواہش کو ایک حسین خواب میں تبد یل کر دیتے ہیں۔

مجھے بھی امریکہ کے سفر کا شدید انتظار تھا اور اردگرد کے لوگوں کے بدلے رویے، میرے تعارف کی بنیاد امریکہ کا متوقع سفراورعزیر و اقارب میں اہمیت کے اضافہ نے اور بھی پُر جوش بنا دیا تھا، لیکن میرا جوش اور خوشی اُس وقت ماند پڑ جاتی جب ہر خیر خواہ مبارکباد دینے کے بعد یہ ہدایت ضرور کرتا کہ امریکی پاکستانیوں سے ناروا سکوک کرتے ہیں اوراس کا آغاز ائیر پورٹ سے کیاجاتا ہے۔

سکیننگ مشین سمیت تفصیل اس قدر یقین سے بتاتے تھے جیسے اسی ہفتے امریکہ سے واپس آئے ہوں اورمجھ سے ویزہ کے حصول کا طریقہ دراصل میرے امتحان کے طور پر پوچھ رہے ہیں۔ ان سب دوستوں سے جب میں نے پوچھا کہ آپ امریکہ گئے ہیں تو سب کا ایک ہی جواب ہوتا۔ نہیں !



بے چینی، تجسس اور گھبراہٹ اُس وقت عروج پر پہنچ گئی جب میں امریکہ کے ہوائی اڈے پر مختلف رنگوں کے پاسپورٹ ہاتھ میں لیئے سینکڑوں افراد کے ساتھ قطار میں کھڑا تھا۔ میری نظریں سبز رنگ کے پاسپورٹ کے حامل افراد کی تلاش میں تھی جو متوقع طور پرمتعصبا نہ شناخت پریڈ میں میرے ساتھی ہو سکتے تھے۔

میرے چہرے پر داڑھی نے اور بھی خیالات کو جنم دے رکھا تھا، شائد داڑھی کی وجہ سے زیادہ مشکوک نظر سے دیکھا جائے۔


امیگرایشن ڈیسک کی طرف بڑھتا ہر قدم میرے دل کی دھڑکن میں بھی اضافہ کر رہا تھا۔

امیگریشن آفیسر نے محض چند منٹ کی ضروری کاروائی کے بعد مسکراتے ہوئے امریکہ آمد پر خوش آمدید کہا.



میں اس کی طرف اس طرح دیکھ رہا تھا جیسے یہ کچھ بھول گیا ہو؟
لیکن نہ کسی کی داڑھی پر غور کیا گیا اور نہ کسی سے علاقائی بنیادوں پر مختلف انداز اپنایا ؟









عبدل کا امریکہ

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG