رسائی کے لنکس

ابو ظہبی: موسمیاتی تبدیلی اجلاس، ماہرین کی شرکت


’اگر ہم فوری طور پر کوئی اقدام نہیں کر پائے تو عالمی خوش حالی اور سلامتی سے متعلق ہمارے سارے کے سارے منصوبے بیکار ہو کر رہ جائیں گے‘: بان کی مون

ستمبر میں اقوام متحدہ کے توسط سے ہونے والے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق سربراہ اجلاس میں عالمی راہنماؤں کی وسیع تر شرکت کو یقینی بنانے کے مقصد سے ابوظہبی میں دو روزہ بات چیت کا آغاز ہو گیا ہے۔

فلپ والٹر ویلمن نے ابو ظہبی سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اِس گفتگو میں حکومتوں، کاروباری اداروں، مالیاتی تنظیموں اور سول سوسائٹی کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں، جس کا مقصد اس سال کے اواخر میں اقوام متحدہ کی طرف سے ہونے والی بات چیت میں امید افزا ٹھوس نتائج برآمد کرنے کے سلسلے میں تعاون کو مزید بڑھانے کے طریقے تلاش کرنا ہے۔

اِس موقعے پر، اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے شرکا کو ہدایات جاری کیں۔

بقول اُن کے، ’سربراہ اجلاس حل تلاش کرنے پر دھیان مرکوز رکھے گا۔ اس سربراہ اجلاس میں محض گفتگو نہیں ہوگی۔ یہ حل تلاش کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔‘

متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت میں وفود سے بات چیت کے دوران، مسٹر بان نے کہا کہ ’موسم کی تبدیلی کے عنوان پر کافی گفتگو ہوچکی ہے۔ تاہم، اس ضمن میں کوئی خاطر خواہ ٹھوس اقدام نظر نہیں آیا‘۔

اور، اُن کا کہنا تھا کہ ’اگر یہی حال رہا تو یہ بات کرہٴارض کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔‘

اُن کے الفاظ میں، ’اگر ہم فوری طور پر کوئی اقدام نہیں کرپائے تو عالمی خوش حالی اور سلامتی سے متعلق ہمارے سارے کے سارے منصوبے بیکار ہو کر رہ جائیں گے۔‘

امریکہ کے سابق نائب صدر، الگور، جنھوں نے بھی ابو ظہبی میں خطاب کیا، کہا کہ اب تک دنیا میں شدید گرمی کے 14 برسوں میں سے 13 اس اکیسویں صدی میں رونما ہوئے ہیں۔

اُنھوں نے اور ماحولیات کے دیگر ماہرین نے دنیا بھر میں ہونے والی قدرتی آفات اور سخت موسم میں اضافے کا ذمہ دار بڑھتے ہوئے درجہٴ حرارت کو قرار دیا، جس میں ’ہائیہان‘ کا سمندری طوفان بھی شامل ہے، جس میں گذشتہ سال فلپائن میں 6000سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

قدرتی آفات میں اضافے کے علاوہ، سمندر کی سطح میں اضافہ، خشک سالی، پناہ گزینوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور سیاسی عدم استحکام کا معاملہ سبھی کا باعث موسمیاتی تبدیلی کو قرار دیا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے توسط سے ستمبر میں ہونے والے سربراہ اجلاس کا مقصد موسم کی عالمی تبدیلی کے سلسلے میں سمجھوتے کا ایک مسودہ تیار کرنا ہے، جسے آئندہ سال پیرس میں ہونے والے اجلاس کے دوران حتمی شکل دی جائے گی۔
XS
SM
MD
LG