رسائی کے لنکس

پاکستان بن لادن کے اہلِ خانہ تک جلد رسائی دیدے گا، امریکی حکام


پاکستان بن لادن کے اہلِ خانہ تک جلد رسائی دیدے گا، امریکی حکام

پاکستان بن لادن کے اہلِ خانہ تک جلد رسائی دیدے گا، امریکی حکام

ایک امریکی اہلکار نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے امریکی تحقیقاتی حکام کو اپنی تحویل میں موجود القاعدہ رہنما اسامہ بن لادن کی بیویوں سے تفتیش کی اجازت جلد دیدی جائے گی۔

امریکی میڈیا نے نامعلوم عہدیدار کےحوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اسامہ بن لادن کی بیویوں سے تفتیش کیلیے پاکستانی حکام سے رابطے میں ہے کیونکہ اہلکار کے بقول امریکہ سمجھتا ہے کہ ان خواتین سے القاعدہ کے نیٹ ورک کے حوالے سے اہم معلومات حاصل ہوسکتی ہیں۔

واضح رہے کہ بن لادن کی تینوں بیویاں ایبٹ آباد کے اس کمپائونڈ میں ان کے ساتھ ہی مقیم تھیں جہاں امریکی فورسز نے گزشتہ ہفتے ایک خفیہ کاروائی کرکے القاعدہ رہنما کو ہلاک کردیا تھا اور ان کی لاش اپنے ہمراہ لے گئے تھے۔

دو مئی کو کی جانے والی اس کاروائی کے بعد پاکستانی فورسز نے بن لادن کی تینوں بیویوں کو ان کے بچوں سمیت حراست میں لے لیا تھا اور یہ تمام افراد اب بھی پاکستان کی تحویل میں موجود ہیں۔

تاہم پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ اسے اسامہ بن لادن کے اہلِ خانہ تک رسائی فراہم کرنے کے حوالے سے امریکہ کی کوئی باضابطہ درخواست تاحال موصول نہیں ہوئی ہے۔

امریکہ عہدیداروں کی جانب سے یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے پاکستان میں تعینات اپنے اسٹیشن چیف کو واپس بلانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے پاکستانی میڈیا نے سی آئی اے کے اسلام آباد میں تعینات اسٹیشن چیف کی اصل شناخت ظاہر کرنے کا دعویٰ کیا تھا جس کے بعد امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ سی آئی اے پاکستان میں اپنی کاروائیوں کے نگران کو واپس بلالے گی۔

تاہم امریکی حکام نے کہا ہے کہ پاکستانی میڈیا کی جانب سے سی آئی اے اسٹیشن چیف کو جس نام سے شناخت کیا گیاہے وہ درست نہیں۔ امریکی حکام کے بقول انہیں یقین ہے کہ اسلام آباد میں تعینات سی آئی اے چیف کی اصل شناخت ارادتاً ایک ایسے وقت میں ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے جب یہ سوال اٹھائے جارہے ہیں کہ پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی القاعدہ رہنما اسامہ بن لادن کے پاکستان میں طویل قیام سے کیونکر لاعلم رہے۔

امریکی حکام کے بقول سی آئی اے کے پاکستان میں اسٹیشن چیف نے ان کوششوں کی نگرانی میں اہم کردار ادا کیا ہے جن کے ذریعے امریکہ اسامہ بن لادن کی پناہ گاہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوا۔

واضح رہے کہ پاکستانی میڈیا نے اسلام آباد میں تعینات سی آئی اے کے سابق اسٹیشن چیف کی اصل شناخت بھی ظاہر کردی تھی جس کے بعد انہیں دسمبر میں امریکہ واپس بلالیا گیا تھا۔

دریں اثناء امریکی حکام نے اسامہ بن لادن کی ہلاکت کیلیے دو مئی کی رات کیے گئے آپریشن کی مزید تفصیلات بھی جاری کی ہیں۔ حکام کے بقول امریکی فوجی ایبٹ آباد میں کی گئی کاروائی کے دوران پاکستانی دستوں سے ممکنہ مڈبھیڑ کیلیے تیار تھے اور اس مقصد کیلیے دو اضافی ہیلی کاپٹر بھی ان کے بیک اپ پر موجود تھے۔

تاہم حکام کے بقول پاکستانی دستوں کی جانب سے کسی قسم کی مزاحمت نہیں کی گئی البتہ کاروائی میں شریک ایک ہیلی کاپٹر کی خرابی کے باعث بیک اپ کیلیے ساتھ آنے والا ایک ہیلی کاپٹر اس کمپائونڈ تک پہنچا جہاں القاعدہ رہنما کی رہائش تھی اور امریکی فوجیوں کو وہاں سے نکلنے میں مدد دی۔

واضح رہے کہ پاکستانی وزیرِاعظم سید یوسف رضا گیلانی نے گزشتہ روز قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے امریکی آپریشن پر تنقید کی تھی اور خبردار کیا تھا کہ پاکستانی سرزمین پر اس طرح کی یک طرفہ کاروائیوں کے "سنگین نتائج" برآمد ہوسکتے ہیں۔

دریں اثناء پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے ایک ترجمان نے اس خبر کی تردید کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہوں نے اپنے دورِ اقتدار میں ایک معاہدے کے ذریعے امریکہ کو اس بات کی اجازت دی تھی کہ اگر اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کا انکشاف ہوا تو امریکی افواج پاکستانی سرزمین پر براہِ راست کاروائی کرسکتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG