رسائی کے لنکس

آکسفورڈ یونیورسٹی کے 'کیبل کالج' کی عمارت کے 300 سے زائد کمرے ان دنوں سیاحوں کو رہائش کی سہولت فراہم کر رہے ہیں۔

دنیا کی تاریخی درسگاہ آکسفورڈ یونیورسٹی کالج نے اپنے دروازے غیر ملکی سیاحوں کے لیے کھول دیے ہیں جنھیں دنیا کی قدیم ترین درسگاہوں میں رہائش کا منفرد موقع فراہم کیا جارہا ہے۔

انگلستان کی کاؤنٹی آکسفورڈ شائر میں واقع آکسفورڈ یونیورسٹی کے کالجوں کی جانب سے رواں برس موسم گرما کی تعطیلات کے دوران یونیورسٹی کی عمارت کے کمروں کو سیاحوں کی رہائش کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

دنیا کی مشہور شخصیات بل کلنٹن، گاندھی، رونالڈ ریگن اور 25 برطانوی وزرائے اعظم بشمول ڈیوڈ کیمرون کے علاوہ پاکستان کی سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اور مشہور کرکٹر اور سیاست دان عمران خان اور 26 نوبیل انعام یافتہ شخصیات نے آکسفورڈ کی انہی درسگاہوں سے تعلیم حاصل کی ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل دنیا کی عظیم شخصیات کے کمروں میں ایک رات گزارنے کا کرایہ 30 پونڈ سے 95 پونڈ کے درمیان ہے جسے ادا کر کے سیاح اپنی زندگی کے ناقابل فراموش تجربہ سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ کالج کے وسیع ہال میں طعام اور کشادہ باغات میں گھومنے پھرنے کے ساتھ ساتھ دریائے چارویل کے کنارے سیر و تفریح کی سہولت سے بھی لطف اندوز اٹھا سکتے۔

'آکسفورڈ بیڈ اینڈ بریک فاسٹ' کی ویب سائٹ کے مطابق دریائے چارویل کے کنارے واقع آکسفورڈ شہر کی قدیم ترین جامعات کی طرف سے رہائش کی یہ پیشکش ایسے وقت میں کی جاتی ہے جب طالب علم موسم گرما کی تعطیلات منانے کے لیے اپنے گھروں کو رخصت ہوچکے ہوتے ہیں۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے مطابق یونیورسٹی میں رہائش کی اس پیشکش کا مقصد اضافی آمدنی ہوتا ہے جسے کالج کی قدیم عمارتوں کی دیکھ بھال پر خرچ کیا جاتا ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے 'کیبل کالج' کی عمارت کے 300 سے زائد کمرے ان دنوں سیاحوں کے لیے رہائش کی سہولت فراہم کر رہے ہیں۔

صدیوں پرانی تہذیب، فن تعمیر کے نمونوں اور برسوں پرانی گرد و غبار سے اٹی کتابوں کے ساتھ فن مصوری کے شاہکار نمونوں کو قریب سے دیکھنے کے اس انوکھے تجربے کے لیے سیاحوں سے کسی محل کے کمرے کا کرایہ وصول نہیں کیا جارہا بلکہ جامعات کے تاریخی کمروں کا کرایہ شہر کے دیگر ہوٹلوں کے کمروں کے کرایے کے برابر ہی رکھا گیا ہے۔

آکسفورڈ شہر پرکشش مقام ہونے کے ناطے بھی دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے۔ یہاں کے تھیٹر، قدیم تعمیرات اور وسیع و عریض باغات کے علاوہ قدیم لائبریریاں اور 'یونیورسٹی نیچرل ہسٹری میوزیم' شہر کی تاریخی اہمیت میں اضافہ کرتے ہیں۔

بارہویں صدی کے ابتدائی سالوں میں انگریز نوجوان اس وقت کی اہم ترین درسگاہوں میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے پیرس جایا کرتے تھے۔

ان کی اس ضرورت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے آکسفورڈ میں قائم کیے جانے والے کالجوں میں باقاعدہ تدریس کا آغاز 1167ء میں اس وقت ہوا جب پیرس کی درسگاہوں کے سیکڑوں طالب علم آکسفورڈ منتقل ہو گئے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھیں اس وقت کے انگلستان کے فرمانروا ہنری دوئم نے واپس بلا لیا تھا۔

یہ بھی قیاس کیا جاتا ہے کہ فرانس نے ان طلبہ کو اپنی جامعات سے فارغ کر دیا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ بادشاہ ہنری نے جس جگہ اپنی رہائش کے لیے بیوماؤنٹ محل تعمیر کیا تھا وہ اس درسگاہ سے بہت قریب تھا جہاں آج آکسفورڈ کا 'واریسٹر کالج' موجود ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کو 1214ء میں عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ کی جانب سے ایک چارٹر موصول ہوا تھا اور اس وقت سے آج تک آکسفورڈ کی تعلیمی درسگاہیں کیتھولک عقیدے اور روایات کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

آج اس شہر میں مختلف عمر کے طالب علموں کے لیے 39 کالج موجود ہیں جہاں ہر طلبہ کی رہائش، نجی تدریس، کھیل، لائبریری اور سماجی سہولتوں کی فراہمی کی ذمہ داری یونیورسٹی کی ہوتی ہے۔

اشرافیہ کی جامعات سمجھی جانے والی آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹیز کے دروازے 1954ء تک ایسے لوگوں کے لیے بند تھے جو 'چرج آف انگلینڈ' کے اصولوں پر یقین نہیں رکھتے تھے۔

XS
SM
MD
LG