رسائی کے لنکس

خواتین مردوں کی طرح موٹر سائیکل سواری نہ کریں: نیا ضابطہ


انڈونیشیا کے صوبہ ٴ آچے کے مقامی قوانین اظہار کی آزادی، جماعت سازی اور مذہبی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں: ’ہیومن رائٹس واچ‘

انڈونیشیا کےصوبہٴ آچے، جہاں شریعت کے قوانین عائد ہیں، مذہبی پولیس نے بدکاری، جوا، ٹائیٹ جین پہننے اورمغربی طرز کے بال کٹوانے کی ممانعت کردی ہے۔

اب سڑکوں پر سفر کرنے والی خواتین مردوں کی طرح پاؤں پھیلا کر موٹر سائیکل پر نہیں بیٹھ سکیں گی۔

اِن نئے ضابطوں کو بڑے پیمانے پر نکتہ چینی کا ہدف بنایا گیا ہے، جب کہ سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ امتیازی نوعیت کےقوانین ہیں جنھیں اسلامی بتایا جارہا ہے، جِن کےباعث انڈونیشیا کے معتدل اقدار والے معاشرے کی شہرت کو دھچکہ پہنچنے کا خطرہ لاحق ہے۔

اس وقت آچے کے لوک سماوا نامی قصبے میں اخلاقی اقدار کے نفاذ کا کام جاری ہے۔

قصبے کے میئر سعیدی یحیٰ کا کہنا ہے کہ اخلاقیات کا مقامی نظام برباد ہوتا جارہا ہے، اور یہ بات مناسب نہیں کہ خواتین موٹر سائیکلوں پر مردوں کی طرح بیٹھ کر سفر کریں۔

مذہبی راہنماؤں نے اِس نئے ضابطے کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ تاہم، خواتین کےگروپوں نے اسے نا سمجھی پر مبنی اور امتیازی نوعیت کا قرار دیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ مذہب اور اخلاقیات کےنام پر بننے والے مقامی قوانین نےخواتین پر برے اثرات ڈالے ہیں۔

ایندی یتی یانی خواتین کے حقوق سے متعلق قومی تنظیم سے وابستہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ نیا ضابطہ آچے اور انڈونیشیا کو پیچھے دھکیلنے کی سمت ایک بڑا قدم ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ بنیادی طور پر یہ خواتین کے خلاف امتیازی نوعیت کاقانون ہے۔ اس کےباعث، انڈونیشیا میں انسانی حقوق کی جاری تحریک پر مضر اثرات پڑ رہے ہیں۔

پھر، آچے کی خواتین اِس امتیاز کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے سڑکوں پر کیوں نہیں آجاتیں۔

یتی یانی کا کہنا ہے کہ یہ آسان کام نہیں ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ کیونکہ یہ ضابطے شریعہ کےتحت تشکیل دیے گئے ہیں، اِس لیے انڈونیشیا کے لوگ اِنھیں چیلنج نہیں کرسکتے، کیونکہ اُس صورت میں اُنھیں مذہب مخالف قرار دیا جائے گا۔


آچے میں خواتین کے حقوق سے متعلق گروہوں کا کہنا ہے کہ یہ مقامی آرڈیننس پیسے کو ضائع کرنے کے مترادف ہیں، کیونکہ اِن کے نفاذ کے لیے نیکی کو رائج کرنے کے لیے پولیس فورس کی تعناتی کی ضرورت پڑےگی۔

اُن کا کہنا تھا کہ رقوم صحت اورتعلیم کی بہتری کے لیے استعمال ہوسکتی ہیں۔

سنہ 2005میں ہیلسنکی میں مرکزی حکومت اور آچے کے علیحدگی پسندوں کے درمیان ہونے والے ایک معاہدے کے تحت، آچے کو علاقائی خودمختاری دی گئی تھی۔ اس معاہدے اور بعدازاں شریعہ کےقانون کو لاگو کرنے کے نتیجے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں مرحلہ وار اضافہ آیا ہے۔

’ہیومن رائٹس واچ‘ سے منسلک آندرے ہارسونو نے کہا ہے کہ آچے کے مقامی قوانین اظہار کی آزادی، جماعت سازی اور مذہبی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔

انڈونیشیا کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ موٹر سائیکل پر سواری کےبارے میں ضابطے کا جائزہ لیا جائے گا، اور اسے کالعدم قرار دیا جاسکتا ہے۔

وزارت نے اب تک ملک میں اس طرح کے 2000سے زائد مقامی قوانین پر معل درآمد کو روک دیا ہے، تاہم اس کی طرف سے اب تک آچے میں شریعہ کے کسی قانون کو روکا نہیں گیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت سخت گیر مذہبی خیالات کی مذمت کرنے سے احتراز کررہی ہے۔
XS
SM
MD
LG