رسائی کے لنکس

شہرمیں تیزاب گردی کے کئی واقعات رپورٹ ہوئے۔ تیزاب سے جھلسے ہوئے چہروں اور وجود کےساتھ رقیہ اور راحیلہ اپنی زندگی کو دوبارہ جینے کی کوشش کررہی ہیں۔۔۔

رقیہ بی بی، تین بچوں کی ماں ہیں۔ چند برس قبل، اُن کے شوہر نے گھریلو جھگڑے کے سبب اُن پر تیزاب پھینک دیا تھا۔

رقیہ کہتی ہے کہ اُس کا شوہر سے ساتھ اکثر پیسوں پر جھگڑا رہتا تھا۔ شوہر کوئی کام نہیں کرتا تھا۔ رقیہ گھر گھر جاکر برتن کپڑے دھوتی اور اس سے ہونے والی کچھ آمدنی سے اپنے بچوں اور شوہر کو پال رہی تھی۔ وہ پیسے بھی اکثر اس کا شوہر چھین کر نشے میں اڑادیتا تھا۔

اپنے اوپر ہونے والے اس ظلم کے بارے میں رقیہ کہتی ہیں کہ "اس نے کہا کہ مجھے پیسے چاہئیں۔ اگر نہیں ہیں تو کسی رشتے دار سے لاکر دو۔ نا ملنے پر اس نے مجھ پر تیزاب پھینکا اور فرار ہوگیا"۔

رقیہ کئی ماہ تک کراچی کے سول اسپتال میں زیر علاج رہی۔ تیزاب نے رقیہ کی ایک آنکھ، اس کا جسم، چہرہ جھلسا کر رکھ دیا۔ ان دنوں، رقبہ اپنی والدہ اور بچوں کے ساتھ زندگی گزار رہی ہے۔

انصاف کیلئے اُنھوں نے در در کی ٹھوکریں کھائیں، کہتی ہیں کہ عدالت کے چکر لگا کر چپلیں گھس چکی ہیں، ’’مگر معلوم ہے کہ یہاں انصاف نہیں ملے گا"۔

خواتین پر تشدد کی اذیتناک شکل تیزاب سے جھلسا دینا ہے۔ پاکستان میں اب تک درجنوں خواتین تیزاب حملوں کا نشانہ بن چکی ہیں۔ کراچی شہر میں بھی کئی خواتین پر تیزاب پھینکنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔

کراچی کی ایک اور نوجوان خاتون راحیلہ کا دکھ بھی کچھ مختلف نہیں۔ راحیلہ کو ان کے محلے کے لڑکے نے شادی سے انکار کی پاداش میں تیزاب سے جھلسا دیا تھا، جس سے راحیلہ کے خوبصورت چہرے سمیت اس کا 80 فیصد جسم جھلس چکا تھا۔

تیزاب سے جلے ہوئے چہرے کے ساتھ راحیلہ اپنی زندگی کو دوبارہ جینے کی کوشش کر رہی ہے۔ وی او اے سے گفتگو میں راحیلہ نے بتایا کہ "پاکستان میں خواتین پر ہونے والے ظلم کا کوئی انصاف نہیں ملتا‘‘۔ اُنھوں نے بتایا کہ ان کا کیس عدالت میں ہے، ’’مگر ایک برس سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود کوئی سماعت تک شروع نہیں ہوسکی"۔

وڈیو رپورٹ دیکھئے:

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG