رسائی کے لنکس

اداکار لہری: اب ستائش سے زیادہ امداد کے منتظر


پاکستانی ٹی وی اور فلموں میں اپنی منفرد انداز کی کامیڈی کے بے تاج بادشاہ کہلائے جانے والے اداکار لہری ان دنوں ستائش سے زیادہ امداد کے منتظر ہیں۔ یہ فنکار گو کہ پچھلے کئی سالوں سے شدید بیمار ہے اور بیماری کے سبب ہی اپنی ایک ٹانگ گنواچکا ہے مگر پھر بھی اس نے خودداری کو نہیں چھوڑا۔

خود داری کے ساتھ ساتھ لہری کا فن ظرافت بھی ابھی زندہ ہے۔ گز شتہ روز کراچی میں میڈیا کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران بھی جہاں انہوں نے اپنے اوپر گزرنے والی تکالیف کا ذکر کیا وہیں اپنے مخصوص فن کو وہ فراموش نہ کرسکے۔ان کا کہنا تھا "میں ڈھائی کمرے کے فلیٹ میں مقیم ہوں اور کے ای ایس سی نے اسی فلیٹ کا بل 36500روپے بھیجا ہے۔جب میرے بچوں نے مجھے بل دکھایا تو میں نے سوچا شاید کسی کا فون نمبر لکھا ہے لیکن وہ مجھ پر واجب الادا رقم تھی۔یہ مجھ پر ڈینگی وائرس سے بڑا حملہ ہے ۔اس قدر بڑی رقم دیکھ کر میں پریشان ہوں کہ اب کس طرح گزارہ ہو گا"۔

اداکار لہری: اب ستائش سے زیادہ امداد کے منتظر

اداکار لہری: اب ستائش سے زیادہ امداد کے منتظر

لہری کا اصل نام سفیر اللہ ہے ۔ وہ تقسیم ہند سے قبل بھارت میں پیداہوئے تاہم تقسیم کے فوراًبعد پاکستان ہجرت کرکے کراچی میں آبسے۔ انہوں نے پاکستان آکر پہلی ملازمت اسٹینو ٹائپسٹ کی حیثیت سے کی۔ دن بھر ڈیوٹی انجام دینے کے بعد شام کے اوقات میں وہ صدر میں ہوزری کا سامان فروخت کرنے لگے۔ انہیں اداکاری کا شوق تھا مگر اس شوق کو جلا بخشنے کے لئے انہیں درست سمت نہیں مل رہی تھی۔

سن 1955ء میں اس وقت کی نامور فلمی شخصیت لچھو سیٹھ ، شیخ لطیف نے" انوکھی" کے نام سے ایک فلم بنانے کا منصوبہ بنایا۔ فلم میں ہیروئن کا کردار ادا کرنے کے لئے بھارت سے شیخ لطیف کی بھتیجی شیلارمانی کو پاکستان بلایا گیاجبکہ ہیرو کے لئے اداکار شاد کو چنا گیا کیوں کہ ان کی ایک فلم "نوکر" باکس آفس پر نئی نئی ہٹ ہوئی تھی۔ اس فلم کے لئے شیخ لطیف کو ایک مزاحیہ اداکار کی بھی ضرورت تھی ۔ اسی دوران کسی نے سفیر اللہ کو شیخ لطیف کے پاس بھیج دیا۔

فلم "انوکھی" 21 جنوری 1956کو ریلیز ہوئی جس نے سفیر اللہ کوراتوں رات گمنامی سے نکال کر شہرت کی دنیا میں لاکھڑا کیا مگر نام بدل کر۔۔۔سفیر اللہ کو اسی فلم نے لہری کے نام سے نئی شناخت دی ۔

لہری کا فلمی سفر دوچار برس کی بات نہیں، 38 سالوں کا قصہ ہے۔ اس مدت میں انہوں نے ایک کے بعد ایک دو سو پچیس کامیاب فلمیں کیں۔ وہ پاکستانی فلم انڈسٹری کے عظیم کامیڈین کہلاتے ہیں۔ ان کی یادگارفلموں میں انسان بدلتاہے، رات کے راہی، فیصلہ، جوکر، کون کسی کا اور آگ شامل ہیں۔ لہری سے پہلے اداکار یعقوب بہترین کامیڈین کہلاتے تھے مگر لہری نے اپنی محنت اور کام کی لگن سے یعقوب کو بہت پیچھے چھوڑدیا۔ فلم توبہ، جیسے جانتے نہیں، دوسری ماں، ایک نگینہ، ایک مسافر ایک مسافر ایک حسینہ اور چھوٹی امی کی بے پناہ کامیابی اس کی دلیل ہے۔ علاوہ ازیں تم ملے پیار ملا، بہادر، نوکر، بہاریں پھر بھی آئیں گی، افشاں اور رم جھم وہ فلمیں ہیں جو لہری کو ہمیشہ عظیم فنکار کہلواتی رہیں گی۔

اپنے دور کی شاید ہی کوئی ایسی فلم ہوگی جس میں لہری نے اداکاری نہ کی ہو۔ چھوٹی بہن، بالم، جلتے سورج کے نیچے، پھول میرے گلشن کا، الجھن، ضمیر، آنچ، صائمہ ، دل لگی، آگ کادریا، ہمراز، دیور بھابی، داغ، نئی لیلیٰ نیا مجنوں، بندھن، تہذیب، دلہن رانی اور پرنس۔۔۔اس دور کی جس فلم کا نام لیجئے لہری اس کی کامیابی کا ضامن تھے۔

ایسا نہیں ہے کہ لہری کے دور میں اور کوئی مزاحیہ آرٹسٹ تھا ہی نہیں بلکہ ظریف، نذر، آصف جان، منور ظریف، نرالہ، رنگیلا اور ننھا جیسے بڑے آرٹسٹوں کا بھی طوطی بولا کرتا تھا مگر لہری کا اپنا انداز تھا، سب سے منفرد اور سب سے جدا۔

انہیں پاکستان فلم انڈسٹری کا سب سے بڑا "نگار ایوارڈ" بارہ مرتبہ ملا جو بذات خود ایک ریکارڈ ہے۔ 1999ء تک پوری فلم انڈسٹری میں ان کا کوئی توڑ پیدا نہ ہوسکا ۔۔۔تاہم رفتہ رفتہ ان کی جان کو لگنے والی متعدد بیماریوں نے انہیں بستر سے لگا دیا ہے۔

طویل ترین بیماریوں نے لہری کو نہایت کمزور کردیا ہے ۔ وہ فالج کے مرض میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ ذیابیطیس کے بھی مریض ہیں۔پہلے بھی کئی مرتبہ اسپتالوں میں انگنت دن گزار چکے ہیں۔ ذیابیطس کے مرض میں ہی ان کی ایک ٹانگ کاٹنا پڑی۔ ان دنوں وہ نہایت نامساعد حالات سے دوچار ہیں۔ انہوں نے اپنی بیماری سے نجات اور علاج معالجے کے لئے حکومت سے امداد کی اپیل کی ہے ۔

XS
SM
MD
LG