رسائی کے لنکس

ادا جعفری نے جمعہ 13 مارچ کی دوپہر پی ای سی ایچ ایس میں واقع اپنی رہائش گاہ سے سوسائٹی قبرستان میں واقع اپنی آرام گاہ تک کا آخری سفر اپنے چاہنے والوں کے کندھوں پر طے کیا اور لحد میں اتر کر ابدی نیند سو گئیں

شہر قائد ’کراچی‘ ہی نہیں۔۔پاکستان بھر کے ادبی حلقے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب سے افسردہ ہیں۔ ایسے دور میں جب بقول ایک مبصر ’اردو ادب جس پر لگتا ہے ایک جمود سا طاری ہے‘ ۔۔وہاں۔۔ ادا جعفری جیسی منفرد لہجے والی شاعرہ انتقال کرجائیں تو ادبی محفلیں بالکل ہی ویران نظر آتی ہیں۔

تحقیقی حوالے بتاتے ہیں کہ اپنی ادبی خدمات کے صلے کے طور پر حکومت پاکستان کی جانب سے ’تمغہ امتیاز‘ اور ’صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی‘ حاصل کرنے والی ادا جعفری، اختر شیرانی اور اثر لکھنوی کی شاگرد تھیں۔

ان کے شعری مجموعوں میں، ’میں ساز ڈھونڈتی رہی‘، ’شہردرد‘، ’غزالاں تم تو واقف ہو‘ اور ’ساز سخن بہانہ ہے‘ اور کلیات ’موسم موسم‘ شامل ہیں۔ ادا جعفری نے خود نوشت بھی تحریر کی جس کا نام ’جو رہی سو بے خبری رہی‘ تھا۔

وائس آف امریکہ نے آرٹس کونسل آف پاکستان کے احمد شاہ سے انٹرویو میں بتایا کہ، ’پچاس سالوں پر محیط تخلیقی ادب کا آج ایک دور ختم ہوا۔۔یہ دور کبھی واپس نہیں آئے گا۔ لیکن، یاد ہمیشہ رہے گا۔‘

بھارتی شہر بدایوں سے کراچی ہجرت کرکے آنے والی ادا جعفری نے جمعہ 13 مارچ کی دوپہر پی ای سی ایچ ایس میں واقع اپنی رہائش گاہ سے سوسائٹی قبرستان میں واقع اپنی آرام گاہ تک کا آخری سفر اپنے چاہنے والوں کے کندھوں پر طے کیا اور لحد میں اتر کر ہمیشہ کی نیند سو گئیں۔

اس سفر میں بہت سے لوگ شریک تھے۔ لیکن، اس لمبی چوڑی بھیڑ میں بھی ادا جعفری کتنی تنہا رہیں۔۔ اس کی ایک جھلک ان تصویروں میں ملاحظہ کیجئے:

XS
SM
MD
LG