رسائی کے لنکس

افغانستان میں زراعت کو جدید بنانے کی کوششیں

  • جینی گلاس
  • آمنہ خان

افغانستان میں زراعت کو جدید بنانے کی کوششیں

افغانستان میں زراعت کو جدید بنانے کی کوششیں

افغانستان کا قابل کاشت رقبہ 15 فی صد سے بھی کم ہے مگر اس کی 85 فی صد آبادی کی آمدنی زراعت کے شعبے سے وابستہ ہے۔ یہاں کاشت کاری کے لیے صدیوں سے رایج طریقوں سے کام لیاجاتا ہے۔ جس سے بہت کم پیداور حاصل ہوتی ہے۔ نوجوان افغانوں کو کاشت کاری کے ترقی یافتہ طریقوں سے آگاہ کرنے کے لیے ایک امریکی یونیورسٹی ، کابل یونیورسٹی کی مدد کررہی ہے۔

مشرقی افغانستان میں گندم کی کٹائی کے موسم میں افغان کسان اپنی صدیوں پرانی روایت پر عمل کرتے ہوئے ہاتھوں سے فصل اکٹھی کرتے ہیں جبکہ کابل یونیورسٹی میں افغان طالبعلم ایک امریکی ماہر سے کاشت کاری کے جدید طریقے سیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔

سوفیا ولکاس کا تعلق امریکہ کی پرورڈیو یونیورسٹی سے ہے، اور وہ تعاون کے ایک پانچ سالہ معاہدے کے تحت گذشتہ ایک سال سے یہاں پڑھارہی ہیں۔

ان کا کہناہے کہ ہم یہاں کارکردگی اور پیداوار بڑھانے اور، اپنی مہارتوں او رٹیکنالوجی میں جدت لانے کے لیے کام کررہے ہیں تاکہ یہ طالب علم آگے چل کر افغانستان کی زراعت کو مضبوط بنانے میں مدد کر سکیں ۔

نصاب کو بہتر بنانے کے لیے اس میں جدید بیالوجی اور سائنس کو شامل کیا گیا ہے۔ اپنی پڑھائی کے دوسرے سال میں طالب علم کھیتوں میں کام کرتے ہیں اور جانوروں کی دیکھ بھال میں حصہ لیتے ہیں۔ وہ یہ جانتے ہیں کہ انہیں اپنے ملک کو مسابقت کے اس دور میں آگے بڑھانے کے لیے روایتی زرعت کے طریقوں میں تبدیلی لانی ہو گی۔

ایک طالب علم سبجان اللہ کہتے ہیں کہ افغانستان کے زرعی شعبے میں زیادہ ترکام ہاتھ سے کیا جاتا ہے، اگرہم اپنی اجناس بیرون ملک برآمد کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے کام کرنے کے انداز کو جدید بنانا ہوگا۔

کابل یونیورسٹی کے اس فارم میں بھیڑیں اور مرغیاں رکھی گئی ہیں جن میں امریکہ سے لائی گئی ایک خاص نسل کی مرغیاں بھی شامل ہیں۔ طالب علموں کا کہناہے کہ تدریس کے لیے بین الاقوامی پروفیسروں کی شمولیت ان کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہورہی ہے۔

ایک اور طالب علم پیغام کا خیال ہے کہ افغانستان ایک زرعی ملک ہے ، اس لیے ہمیں ان کورسز کی ضرورت ہے۔

سوفیا کہتی ہیں کہ افغانستان کے 85 فی صد لوگوں کی آمدنی زراعت سے وابستہ ہے اور معیشت صنعتی پیداوار سے زیادہ زراعت اور ذرعی پیداوار پر انحصار کرتی ہے۔

یونیورسٹی کے زرعی شعبے کے اساتذہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے پروگرام کو بہتر بنایا ہے لیکن قانون اور صحافت جیسے دوسرے مضامین کی نسبت یہ پروگرام اتنا مقبول نہیں۔ شعبہ زراعت کےاساتذہ اس رجحان کو بدلنےکی ضرورت پر زور دیتے ہیں ۔

گندم کی فصل کے حوالے سے حالیہ عرصے میں کچھ بہتری آئی ہے۔ دو سال قبل گندم کی کاشت کے لیے یہاں ایک تھریشر لایا گیا تھا۔ لیکن کاشت کار وں کا کہناہے کہ افغانستان میں ایسی مشینیں زیادہ نہیں ہیں۔

ایک کاشت کار غلام نبی کوشکایت ہے کہ حکومت ز رعی مشینیں خریدنے میں ہماری مدد نہیں کرتی۔ اگرچہ وہ ہمیں کچھ بیج دیتی ہے ، لیکن وہ ناکافی ہیں۔

افغان کسانوں کا کہنا ہے کہ انہیں ٹریکٹروں اور دوسرے آلات کی خرید اری کے لیے حکومت کی زیادہ مدد کی ضرورت ہے کیونکہ گندم کی سنہری فصل کو منافع بخش بنانے کے لیے جدید زرعی طریقے اختیار کئے بغیر افغانستان کی غذائی ضروریات پوری کرنا آسان ثابت نہیں ہوگا۔

XS
SM
MD
LG