رسائی کے لنکس

افغان فضائیہ 2020 تک مطلوبہ طاقت حاصل کر سکے گی: جان کیمبل


فائل فوٹو

فائل فوٹو

جنرل جان کیمبل نے کہا کہ افغان فضائیہ کے لیے تیار کیے جانے والے کچھ طیارے 2018 تک افغانستان نہیں پہنچ سکیں گے۔ اُنھوں نے کہا کہ طیارے ملنے کے بعد افغان ہوا بازوں کی تربیت کے لیے مزید دو سے تین سال درکار ہوں گے۔

امریکہ کے سینیئر فوجی کمانڈر جنرل جان کیمبل نے کہا ہے کہ افغان فضائیہ 2020 سے قبل مطلوبہ ضروری طاقت کی سطح تک نہیں پہنچ سکے گی۔

جنرل جان کیمبل گزشتہ ہفتے ہی افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کی کمان کے عہدے سے سکبدوش ہوئے ہیں۔

اُنھوں نے جمعہ کو صحافیوں کو بتایا کہ افغان فضائیہ کے لیے تیار کیے جانے والے کچھ طیارے 2018 تک افغانستان نہیں پہنچ سکیں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ طیارے ملنے کے بعد افغان پائلٹوں کی تربیت کے لیے مزید دو سے تین سال درکار ہوں گے۔

اُن کے بقول افغان فضائیہ کی مطلوبہ صلاحیت کے حصول کے بارے میں 2020 ایک درست اندازہ ہو سکتا ہے۔

جنرل جان کیمبل کی افغانستان میں کمان کے دوران گزشتہ 18 ماہ میں افغان فضائیہ کی صلاحیت میں نمایاں بہتری آئی، تاہم امریکی جنرل کا کہنا ہے کہ افغان ائیر فورس کی تیاری کا عمل امریکہ نے بہت دیر سے شروع کیا۔

مثال کے طور پر 2014 میں اٖفغان فضائیہ نے 85 فضائی کارروائیوں میں حصہ لیا جب کہ 2015 میں افغانستان کی فضائیہ کی طرف سے کی جانے والی کارروائیوں کی تعداد 4,485 تھی۔

جنرل جان کیمبل نے کہا کہ آئندہ کچھ ہفتوں میں افغان فورس کے پاس A-29 ’ٹربوپروب اٹیک‘ طیاروں کی تعداد دو گنا ہو جائے گی جبکہ اس کے علاوہ 10 ’ایم ڈی-350‘ ہیلی کاپٹر اس سال افغان فورسز کو مل جائیں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود امریکہ اور نیٹو کو افغان فورس کو تربیت اور لڑائی کے دوران مشاورت فراہم کرنا ہو گی، خاص طور پر اُن کو جو فضائی کارروائیوں کو کنٹرول کرتے ہیں۔

لڑائی کے دوران فضائی کارروائیوں کی نگرانی یا اُنھیں کنٹرول کرنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اہداف کی درستگی سے نشاندہی کریں تاکہ شہری ہلاکتوں سے بچا جا سکے۔

دفاعی امور کے تجزیہ کار اور پاکستانی فوج کے سابق بریگیڈیئر محمود شاہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں جنرل کیمبل کی اس بات سے اتفاق کیا کہ افغان فضائیہ کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں ابھی خاصا وقت درکار ہے۔

افغانستان سے بیشتر بین الاقوامی لڑاکا افواج کے انخلاء کے بعد طالبان کی کارروائیوں میں تیزی آئی اور اُنھوں نے کئی علاقوں میں اپنا اثرو رسوخ بھی بڑھایا ہے۔

XS
SM
MD
LG