رسائی کے لنکس

اورلینڈو حملے کے بعد افغان تارکین وطن فکرمند


افغانستان، عراق اور اقوام متحدہ میں افغانستان کے سابق سفیر زلمے خلیل زاد۔ فائل فوٹو

افغانستان، عراق اور اقوام متحدہ میں افغانستان کے سابق سفیر زلمے خلیل زاد۔ فائل فوٹو

فلوریڈا میں مقیم افغان ثژاد امریکہ نعمت اللہ نے وائس آف امریکہ کی افغان سروس کو بتایا کہ ’’جو کچھ ہوا اس سے فلوریڈا اور پورے امریکہ میں افغان نژاد امریکی برادری متاثر ہو سکتی ہے اور یہ بہت تشویش کا باعث ہے۔‘‘

امریکی تاریخ کے سب سے مہلک قتل عام کے چند گھنٹوں بعد ہی افغان تارکین وطن کے لیے نشریات چلانے والے لاس اینجلس میں قائم ایک ٹی وی اسٹیشن کے مالک نے غیر معمولی طور پر ایک فیملی شو میں آ کر اس سانحے پر بات کی۔

جب سے حکام نے اورلینڈو کے حملہ آور کی شناخت افغان نژاد امریکی شہری عمر متین کے طور پر کی ہے، ٹیلی وژن چینل کے مالک عمر خطاب کے ٹیلی فون پر مسلسل امریکہ میں مقیم مضطرب افغان تارکین وطن کی کالز موصول ہو رہی ہیں۔

’پیامِ افغان‘ ٹی وی کے مالک عمر خطاب نے کہا کہ ’’یہ شو خاندانی مسائل کے بارے میں ہے مگر میں نے فیصلہ کیا کہ میں میزبان کے ساتھ بیٹھ کر اپنی برادری کی تشویش پر بات کروں۔ میں افغان برادری کو دلاسہ دینا چاہتا تھا کیونکہ ہر کوئی صدمے کی حالت میں ہے اور اداس ہے۔‘‘

پروگرام کے میزبان تیمور شاہ حسن اور عمر خطاب نے پروگرام میں امریکہ میں رہنے والے افغان تارکین وطن کی کالز وصول کیں جنہیں فکر تھی کہ 11 ستمبر کے حملوں کے بعد امریکہ میں ہونے والے سب سے بڑے حملے سے ان کی برادری متاثر ہو سکتی ہے۔

جو کچھ ہوا اس سے نفرت اور متاثرین اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔ مگر ایک موضوع بار بار سامنے آتا رہا کہ اگرچہ متین امریکہ میں پیدا ہوا اور پلا بڑھا مگر اس کے افغان ہونے کی وجہ سے امریکہ میں مقیم افغان تارکین وطن کے خلاف جذبات بھڑک سکتے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں عمر خطاب نے کہا کہ ’’اس بات پر تشویش تھی کہ ایک افغان کے ہاتھوں ہونے والے اس سانحے سے افغانوں کا نام خراب ہو گا اور افغان برادری متاثر ہو گی۔ اس وقت پورا میڈیا اسی بحث پر مرکوز ہے اور پوچھ رہا ہے کہ ’یہ افغان دہشت گرد کیوں ہیں؟‘ ‘‘

اتوار کو ہونے والا یہ حملہ دوسرا واقعہ ہے جب کسی افغان نژاد امریکی کو ملک میں دہشت گردی یا اس کی سازش میں ملوث ہونے کے الزام کا سامنا ہے۔

2009 میں نجیب اللہ زازی کو نیویارک سب وے پر بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

حملہ آور کے والد

عمر خطاب کا ٹی اسٹیشن اپنی 24 گھنٹے نشریات میں مختلف ٹاک شو پیش کرتا ہے جن کے میزبانوں میں سے ایک اورلینڈو حملہ آور کے والد صدیق متین ہیں جو 2012 سے 2015 تک ایک ٹاک شو کی میزبانی کرتے رہے جس کا موضوغ افغانستان اور پاکستان کے درمیان ’ڈیورنڈ لائن‘ کہلانے والی متنازع سرحد ہے۔

اگرچہ وہ عجیب و غریب شخصیت کے مالک ہیں مگر متعدد افغان امریکیوں سے انٹرویو میں معلوم ہوا ہے کہ وہ طالبان کے حامی نہیں تھے۔

پیر کو فیس بک پر جاری ہونے والے ایک وڈیو بیان میں صدیق متین نے کہا کہ ان کا بیٹا ایک ’’بہت اچھا اور تعلیم یافتہ لڑکا تھا‘‘ اور اس حملے سے انہیں ’‘گہرا صدمہ‘‘ ہوا ہے۔

انہوں نے اپنے 29 سالہ بیٹے کے بارے میں کہا کہ ’’مجھے نہیں معلوم تھا کہ اس کے دل میں کینہ تھا۔ مجھے نہیں معلوم اس نے رمضان کے مقدس مہینے میں ایسا کام کیوں کیا۔‘‘ عمر متین نیو یارک میں پیدا ہوا اور پلا بڑھا تھا اور فلوریڈا منتقل ہونے کے بعد وہاں سکیورٹی گارڈ کا کام کرتا تھا۔

انفرادی فعل

اس قتل عام کی مذمت کرتے ہوئے امریکہ میں مقیم افغان برادری کے رہنماؤں نے اپنے آپ کو حملہ آور سے الگ کرنے کی کوشش کی۔

ورجینیا میں مقیم ایک معروف افغان امریکی فنکار اور شاعر حامد نوید نے کہا کہ ’’یہ ایک انفرادی فعل تھا اور افغان ثقافت اور اسلامی قوانین کی نمائندگی نہیں کرتا۔‘‘

انہوں نے کہا کہ میڈیا اور کچھ سیاستدان اس سانحے سے فائدہ اٹھا کر ’’اسے افغانوفوبیا، یعنی افغانوں سے خوف میں بدلنا چاہتے ہیں مگر اس قسم کا تاثر جلد زائل ہو جائے گا کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ 99 فیصد افغان مہذب، ایماندار اور محنتی ہیں اور ایک فرد ان سب کی نمائندگی نہیں کر سکتا۔‘‘

ایک معروف افغان نژاد امریکی اور افغانستان، عراق اور اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر رہنے والے زلمے خلیل زاد نے اس دہشت گرد حملے کی مذمت کی۔

انہوں نے حملے سے کچھ دیر بعد ہی اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا کہ ’’بہت سے افغان نژاد امریکیوں نے مجھ سے رابطہ کر کے اس بزدلانہ کارروائی پر اپنے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔‘‘

مگر پھر بھی افغانوں کو عوامی رد عمل کے بارے میں تشویش ہے۔

فلوریڈا میں مقیم افغان ثژاد امریکہ نعمت اللہ نے وائس آف امریکہ کی افغان سروس کو بتایا کہ ’’جو کچھ ہوا اس سے فلوریڈا اور پورے امریکہ میں افغان نژاد امریکی برادری متاثر ہو سکتی ہے اور یہ بہت تشویش کا باعث ہے۔‘‘

XS
SM
MD
LG