رسائی کے لنکس

علاقے میں جاری سکیورٹی کی اِس کارروائی کا مقصد طالبان سرکشوں کو جنجھوڑنا تھا، جنھوں نے اُس علاقے کو کئی ہفتوں سے اپنے تسلط میں لے کر مرکزی شاہراہ کے ایک حصے کو بند کر رکھا تھا۔ یہ ہائی وے قندھار کو صوبہٴ ارزگان سے ملاتا ہے

جنوبی افغانستان میں جمعرات کو سڑک کنارے نصب بم دھماکہ ہوا جس میں افغان فوج کے ایک اعلیٰ کمانڈر ہلاک ہوئے۔

مقامی اہل کاروں نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ جنرل عبدالبصیر شیروند کا تعلق افغان فوج کے 205 کور سے تھا۔ یہ مہلک دھماکہ اُس وقت ہوا جب صوبہٴ قندھار میں طالبان کے خلاف کارروائی کی جا رہی تھی۔

مزید تفاصیل دستیاب نہیں۔

علاقے میں جاری سکیورٹی کی اِس کارروائی کا مقصد طالبان سرکشوں کو جنجھوڑنا تھا، جنھوں نے اُس علاقے کو کئی ہفتوں سے اپنے تسلط میں لے کر مرکزی شاہراہ کے ایک حصے کو بند کر رکھا تھا۔ یہ ہائی وے قندھار کو صوبہٴ ارزگان سے ملاتا ہے۔

جنرل شیروند افغان فوج کے دوسرے جنرل ہیں جنھیں گذشتہ دو ماہ کے دوران قندھار میں طالبان باغیوں نے ہلاک کیا ہے۔

ادھر، ایک اور معاملے پر اہل کاروں نے جمعرات کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جنوبی صوبہ ٴزابل میں آٹھ پولیس اہل کاروں کو اپنے ہی ساتھیوں کی گولیاں لگیں جن سے اُن کی موت واقع ہوئی۔

طالبان ترجمان نے صوبائی دارالحکومت میں علی الصبح ہونے والے اِس درون خانہ حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بتایا ہے کہ شوٹنگ کرنے والا پولیس کے حلقے میں گھس آیا اور اب اپنے باغی گروپ کی جانب بھاگ نکلا ہے۔

تنصیبات کے اندر ہونے والے حملے، جن کی اکثر طالبان نے ذمہ داری قبول کی ہے، افغان سکیورٹی افواج کے اندر ایک عام سی بات ہو چکی ہے۔

اس سے قبل، اِسی ماہ قندھار میں ایک افغان فوجی اڈے کے اندر رومانیہ سے تعلق رکھنے والے نیٹو کے دو فوجیوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔

حملہ آوروں نے مسلح افواج کی وردیاں پہن رکھی تھیں، وہ گولیوں کے تبادلے کے دوران ہلاک ہوئے، جس کی، بعدازاں، طالبان نے ذمہ داری قبول کی تھی۔

XS
SM
MD
LG